گوالیار۔ گوالیار میں کورونا مریضوں کے ٹیسٹ رپورٹ میں یہ بڑی لاپرواہی سامنے آنے کے بعد جب مریضوں اور ان کے عزیزوں نے احتجاج کیا تو گوالیار سی ایم ایچ او ڈاکٹر وی کے گپتا نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے جانچ کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ گوالیارکورونا کے بڑھتے معاملوں نے جہاں حکومت اور محکمہ صحت کی نیند اڑی رکھی ہے۔ وہیں گوالیار محکمہ صحت کی بڑی لا پرواہی سے کورونا مریضوں کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ درجن سے زیادہ کورونا مریضوں کی جب رپورٹ سامنے آئی تو اس میں محکمہ صحت نے ان کی ولدیت کو ہی بدل دیا تھا۔ گوالیار گجرا راجہ میڈیکل کالج کی کورونا رپورٹ میں یہ معاملے سامنے آیا ہے۔ گوالیار میں کورونا مریضوں کے ٹیسٹ رپورٹ میں یہ بڑی لا پرواہی سامنے آنے کے بعد جب مریضوں اور ان کے عزیزوں نے احتجاج کیا تو گوالیار سی ایم ایچ او ڈاکٹر وی کے گپتا نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے جانچ کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ واضح رہے کہ گوالیار گجراراجہ میڈیکل کالج کے ذریعہ جب 18 کورونا مریضوں کی جانچ رپورٹ جاری کی تو 18 میں سے 13 مریضوں کی ولدیت کے سامنے ایک ہی نام جاوید خان لکھا ہوا تھا۔ گوالیار سی ایم ایچ او ڈاکٹر وی کے گپتا کہتے ہیں کہ یہ بڑی لا پرواہی ہے۔ اس کی جانچ کے احکام جاری کردیئے گئے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ یہ لا پرواہی میڈیکل جانچ کی سطح پر ہوئی ہے یا جو لوگ کورونا مریضوں کی سیمپل لینے کیلئے گئے تھے، ان سے یہ بڑی چوک ہوئی ہے۔وہیں مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے پورے صوبہ میں ایک دن کے لئے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ شیوراج سنگھ حکومت نے اقتدار میں بنے رہنے کے پیش نظر صوبہ میں کورونا کو بے قابو کر دیا ہے۔ ایم پی میں وکاس کا انکاؤنٹر کردیا گیا۔
