پراجیکٹ زیر آب زندگی کے لیے خطرناک ہونے کے اندیشوں کا اظہار
حیدرآباد۔22 فروری(سیاست نیوز) دریاؤں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے پروگرام کے تحت گوداوری اور کاویری کو مربوط کرنے کے منصوبہ کو حکومت آندھراپردیش کی منظوری کے بعد کہا جا رہاہے کہ یہ زیر آب زندگی کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا کیونکہ مختلف دریاؤں میں مختلف دریائی مخلوق کو اس سے نقصان کا خدشہ ہے۔ حکومت آندھر اپردیش کی منظوری کے بعد ماہر ماحولیات کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ دریائے گوداری و کاویری کو مربوط کرنے کے دوران نہ صرف دو دریاؤوں کا سنگم ہوگا بلکہ دیگر 4دریاؤں کو بھی نقصان ہوگا اسی لئے اس منصوبہ سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے کیونکہ دونوں دریاؤں کو مربوط کرنے کے دوران جو نقصان ہونگے ان میں سب سے بڑا تباہ کن نقصان دریا میں موجود مخلوق کو ہوگا اور مختلف دریاؤں میں مختلف مخلوقات کی زندگی الگ طرز کی ہے ۔ماہرین کا کہناہے کہ اس منصوبہ سے 4 دریاؤں کے طاس کو نقصان پہنچے گا اور ان نقصانات سے ماحولیات کو محفوظ رکھنے ضروری ہے کہ اس منصوبہ کو ترک کیا جائے۔ اس منصوبہ کی حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی مخالفت کی جائے گی کیونکہ تلنگانہ کا استدلال ہے کہ آندھراپردیش کاویری اور گوداوری کو مربوط کرنے حامی بھرتی ہے تو گوداوری میں پانی کے آنے کے راستوں کے متعلق تلنگانہ کے خدشات کو دور کرنا ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گوداوری اور کاویری کے حیاتیاتی ماحول کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ ان دریاؤں میں مخلوق منفرد ہے اور دریاؤں میں آبی مخلوقات منفرد ہوا کرتی ہیں اسی لئے دریاؤں کو مربوط کرنے کے فیصلہ سے آبی حیاتیات کو نقصان ہوتا ہے ۔ اس منصوبہ کی حکومت تلنگانہ کے علاوہ ماہرین آبی حیاتیات اور ماہرین آبی ماحولیات کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے ۔کہا جا رہاہے کہ نمائندگی کرکے حکومت کو اس کے نقصانات اور ان دریاؤں میں مچھلی پکڑنے کے عمل کو ہونے والے نقصانات کے ساتھ مچھلیوں کی نشو نما پر منفی اثرات سے واقف کروایا جائیگا۔ م