گودمیں بچہ اور QR کوڈ کے ذریعہ بھیک مانگنے کا طریقہ ! آرٹسٹ جوڑے کی اس سماجی مسئلہ کے خلاف شعور بیداری مہم

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : حیدرآباد میں بھکاری چھوٹے بچوں کو ٹریفک سگنلس پر اٹھا کر بھیک مانگتے ہیں۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ وہ بچے ہمیشہ سوتے رہتے ہیں ۔ آپ نے کبھی ان سے پوچھا ہے کہ کیا انہیں صحت کا کوئی مسئلہ ہے ۔ انہیں دیکھ کر حیدرآبادی فنکار جوڑے وجئے اور سواتی کی دل آزاری ہوئی ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ دیوار ہی بچوں کے رونے کو دنیا کو سنانے کا واحد ذریعہ ہے ۔ وہ بچوں کے بھیک مانگنے کے بارے میں سوالات اٹھانے کے لیے دو سال سے دیواروں پر تصاویر بنا رہے ہیں ۔ ایک دن ایک خاتون ہائی ٹیک سٹی کے قریب اپنے کندھے پر ایک بچے کے ساتھ بھیک مانگ رہی تھی ۔ جوڑنے بتایا کہ ہم حیران رہ گئے جب اس خاتون نے کہا کہ اس کے پاس پرس نہیں ہے اور ہمیں اس وقت حیرانی ہوئی جب ہم نے اسے بتایا کہ ہمارے پاس دینے کے لیے چلر رقم نہیں ہے ۔ تب اس خاتون نے آن لائن ادائیگی کے لیے QR کوڈ دکھایا ۔ جس سے صاف ظاہر تھا کہ اسے آن لائن ادائیگیوں کی کوئی سمجھ نہیں تھی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی بھیک اپنی بھوک مٹانے کیلئے نہیں ہے بلکہ ایسے لوگوں کے پیچھے ایک مافیا ہے ۔ بچوں کو ان کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس لیے میں اور میری بیوی سب کو سوچنے پر مجبور کرنے کیلئے تصویریں بنا رہے ہیں ۔ ہم آرٹ کی نمائشوں ، پمفلٹس اور مختصر ویڈیوز کے ذریعے اس سماجی مسئلے اور جرائم کے بارے میں آگاہی پھیلا رہے ہیں ۔ اگر کسی کو کہیں بھی ایسی حالت میں دیکھتے ہیں تو ذمہ داری کے ساتھ جواب دیں ۔ آرٹسٹ وجئے نے زور دیا کہ ایسے افراد کو مضبوطی سے روکیں ۔۔ ش