گورنر تلنگانہ بی جے پی کی آلہ کار، امیتاز اسحق

   

تمیلی سائی سیاستدان سے گورنر بن سکتی ہیں مگر دوسروں کو کونسل کا رکن نہیں بنا سکتیں

حیدرآباد ۔ 27 ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحق نے گورنر تلنگانہ کے رویہ کو ریاست کی ترقی میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ریاست میں بی جے پی کے نمائندے کی طرح خدمات انجام دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ امتیاز اسحق نے کہا کہ کابینہ میں منظوری کے بعد گورنر کوٹہ کونسل میں نمائندگی کیلئے حکومت نے بی آر ایس کے دو قائدین کی راج بھون سے سفارش کی تھی تاہم ان قائدین کا سیاسی پس منظر ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے حکومت کے سفارش کردہ ناموں کو گورنر نے مسترد کردیا۔ صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن نے کہا کہ تمیلی سائی سوندراراجن کی بحیثیت گورنر نامزدگی بھی سرکار یہ کمیشن کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ گورنر تلنگانہ منتخب ہونے سے ایک دن قبل تک بھی تمیلی سائی سوندرا راجن تاملناڈو بی جے پی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھی۔ وہ سیاستداں سے گورنر کے عہدہ پر نامزد ہوسکتی ہے تو سیاستداں گورنر کوٹہ میں کونسل کے اراکین کیوں منتخب نہیں ہوسکتے۔ گورنر جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست میں بی جے پی کے ایجنڈے کو فروغ دے رہی ہیں۔ گورنر کے فیصلے پر بی جے پی قائدین کی حمایت اس کا زندہ ثبوت ہے۔ گورنر نے یونیورسٹیز میں لکچررس اور پروفیسرس کے تقررات میں رکاوٹیں پیدا کی۔ کئی بلز راج بھون میں زیرالتواء ہیں۔ یہاں تک آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کے معاملے میں بھی گورنر نے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی تھی تاہم آر ٹی سی ایمپلائز کے احتجاج کے بعد انہوں نے اس بل پر دستخط کی ہے۔ اس طرح ریاست میں گورنر ہر معاملے میں مداخلت کررہی ہے جس کے بعد یہ سوال ابھر رہا ہیکہ کیا ملک میں گورنر نظام کی ضرورت ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے مختلف ریاستوں میں گورنرس عوامی منتخب حکومتوں کے فیصلوں میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہوئے عوامی برہمی کا سامنا کررہے ہیں۔ن