نامزد عہدوں پر سیاسی قائدین کے تقرر کی مخالفت، چیف سکریٹری کو مکتوب، سرکاری حلقوں میں ناراضگی
راج بھون اور پرگتی بھون میں کشیدگی میں شدت
حیدرآباد 25 ستمبر (سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان جاری کشیدگی میں آج پھر ایک مرتبہ اُس وقت شدت اختیار کرلی جب گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے گورنر کوٹے کے تحت حکومت کی جانب سے پیش کردہ دونوں ناموں کو مسترد کردیا۔ گورنر کوٹے کی ایم ایل سی نشستوں کے لئے حکومت نے ڈاکٹر ڈی شراون کمار اور کے ستیہ نارائنا کے ناموں کی تجویز پیش کی تھی۔ گورنر نے دونوں فائیلوں کو طویل عرصہ تک زیرالتواء رکھتے ہوئے آخرکار فائیل حکومت کو واپس کردی۔ گورنر نے حکومت کو مشورہ دیا کہ نامزد عہدوں پر سیاسی قائدین کے تقررات سے گریز کیا جائے۔ گورنر نے دونوں ناموں کے سلسلہ میں چیف سکریٹری شانتی کماری کو مکتوب روانہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے دونوں نام دستور کی دفعہ 171(5) میں موجود شرائط کی تکمیل نہیں کرتے۔ گورنر نے دعویٰ کیاکہ کونسل کی رکنیت کے لئے پیش کردہ دونوں نام کوئی خاص کارنامے انجام نہیں دیئے ہیں لہذا اُن کے ناموں پر غور نہیں کیا جاسکتا۔ گورنر نے کہاکہ انٹلی جنس اور کسی بھی ایجنسی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں اِس بات کا اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ دونوں نام عوامی نمائندگان قانون 1951 کے سیکشن 8 تا 11(A) کے تحت اہل قرار نہیں پاتے ہیں۔ گورنر نے ڈاکٹر شراون اور ستیہ نارائنا کے بارے میں دو علیحدہ مکتوب چیف سکریٹری کو روانہ کئے جس میں مشورہ دیا گیا کہ سیاسی قائدین کو نامزد عہدوں پر تقررات سے گریز کیا جائے کیوں کہ یہ دستور کی دفعہ 171(5) کی خلاف ورزی ہے اور اِن عہدوں کے لئے دیگر شعبہ جات کی نامور شخصیتوں کے ناموں پر غور کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ گورنر نے کونسل کی نامزد نشستوں کے لئے پہلی مرتبہ حکومت کے پیش کردہ ناموں کو مسترد نہیں کیا۔ سابق میں پی کوشک ریڈی کے نام کو گورنر نے مسترد کردیا تھا کیوں کہ اُن کا تعلق برسر اقتدار پارٹی سے ہے۔ گورنر کا کہنا ہے کہ گورنر کوٹے کے تحت سماجی شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیتوں کو کونسل کے لئے نامزد کیا جاسکتا ہے۔ تقریباً 3 ماہ سے زائد تک ناموں کو زیرالتواء رکھنے کے بعد گورنر سوندرا راجن نے دونوں فائیلوں کو مسترد کردیا جس سے حکومت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ کوشک ریڈی کے نام کو مسترد کئے جانے کے بعد برسر اقتدار پارٹی نے اُنھیں ارکان اسمبلی کوٹے کے تحت کونسل کیلئے منتخب کیا تھا اور اُن کی جگہ مدھوسدن چاری کا نام پیش کیا گیا جسے گورنر نے منظوری دی۔ ڈاکٹر سوندرا راجن نے مکتوب میں کابینہ اور چیف منسٹر سے خواہش کی کہ سیاسی قائدین کو نامزد عہدوں پر تقررات سے گریز کریں کیونکہ یہ دستور کی دفعہ 171(5) کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں سیاسی بلز کی عدم منظوری کے معاملہ میں راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کشیدگی اُس وقت کم ہوئی تھی جب گورنر نے آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام اور دیگر بلز کو منظوری دی تھی۔ اُمید کی جارہی تھی کہ سکریٹریٹ کی عبادتگاہوں کی افتتاحی تقریب میں چیف منسٹر کے مدعو کرنے اور نئے سکریٹریٹ معائنہ کے بعد راج بھون سے تعلقات خوشگوار ہوجائیں گے لیکن تازہ فیصلے سے کشیدگی میں کمی کے بجائے اور اضافہ ہوچکا ہے۔ حکومت اور برسر اقتدار پارٹی سے گورنر پر تنقیدوں کا آغاز ہوگیا۔ گورنر کی جانب سے 19 ستمبر کو چیف سکریٹری کو روانہ کردہ مکتوب آج برسر عام ہوچکے ہیں۔