گورنر سوندرا راجن کے 4 سال مکمل ، حکومت کیساتھ نرم ؍گرم پالیسی

   

دو برسوں سے راج بھون اور پرگتی بھون میں ماحول کشیدہ، آر ٹی سی بل و دیگر کی عدم منظوری، پانچواں سال اہم
حیدرآباد۔/6 ستمبر، ( سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ کی حیثیت سے ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کے 4 سال مکمل ہوچکے ہیں اور وہ 8 ستمبر کو پانچویں سال میں قدم رکھیں گی۔ ڈاکٹر سوندرا راجن گورنر تلنگانہ کے علاوہ پوڈوچیری کی لیفٹننٹ گورنر بھی ہیں۔ چار سال کی تکمیل پر گورنر نے اپنی کارکردگی پر مبنی کافی ٹیبل بک جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں راج بھون میں تقریب منعقد کی جائے گی۔ ڈاکٹر سوندرا راجن تلنگانہ میں ای ایس ایل نرسمہن کی جانشین ہیں جو متحدہ آندھرا پردیش سے ریاست کے گورنر کے عہدہ پر طویل خدمات انجام دینے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سوندرا راجن کے ابتدائی دو سال تلنگانہ حکومت کے ساتھ بہتر تال میل اور تعاون کے رویہ پر مبنی تھے۔ گورنر نے حکومت کے کسی بھی فیصلہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کی اور مقررہ شیڈول کے مطابق انہیں اسمبلی اور کونسل کے اجلاس سے خطاب کیلئے مدعو کیا جاتا رہا۔ چیف منسٹر کے سی آر بھی راج بھون کے پروگراموں میں شرکت کرتے رہے لیکن گذشتہ دو برسوں میں راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ گورنر کوٹہ کی ایم ایل سی نشستوں کیلئے حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ناموں کو مسترد کرنے کے بعد سے کشیدگی کا آغاز ہوا اور حکومت کے بلزکی عدم منظوری نے دوریوں میں مزید اضافہ کردیا ۔ حالیہ عرصہ میں تقریباً 8 سرکاری بلز راج بھون میں زیر التواء تھے لیکن گورنر نے ان میں سے بعض بلز کو منظوری دی اور دوسروں کو قانونی رائے کیلئے لاء ڈپارٹمنٹ روانہ کردیا۔ گذشتہ دنوں آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام کے فیصلہ سے متعلق بل کو گورنر نے اسمبلی کے آخری دن پیش کرنے کی اجازت دی اور بل کے ساتھ کئی تجاویز پیش کیں۔ حکومت نے اسمبلی میں بل کو منظوری دے دی لیکن راج بھون کی جانب سے ابھی تک کلیرنس حاصل نہیں ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے آر ٹی سی انضمام بل پر قانونی رائے طلب کی ہے۔ اسی دوران گورنر کوٹہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کیلئے حکومت نے ڈی شراون اور ست نارائنا کے ناموں کی سفارش کی لیکن دو ماہ گذرنے کے باوجود گورنر نے کلیرنس نہیں دیا ہے۔ شراون کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے جبکہ ست نارائنا ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے سیاسی پس منظر رکھنے والے افراد کو گورنر کوٹہ کے تحت نامزد کرنے پر اعتراض جتایا ہے۔ انہوں نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ مذکورہ دونوں ناموںکو کس زمرہ کے تحت منظوری دی جائے۔ حکومت نے سماجی خدمات، تعلیمی خدمات، تہذیبی شعبہ میں خدمات کے علاوہ لٹریچر اور عوامی زندگی کی خدمات جیسے شعبہ جات کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ گورنر سے خوشگوار تعلقات کی چیف منسٹر کے سی آر نے پہل کی اور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس الوک ارادھے کی تقریب حلف برداری کے موقع پر گورنر کو سکریٹریٹ کے معائنہ کیلئے مدعو کیا۔ گورنر کے ہاتھوں سکریٹریٹ کی تینوں عبادت گاہوں کا افتتاح کرایا گیا اور چیف منسٹر نے گورنر کو نئے سکریٹریٹ کا مشاہدہ کرایا۔ اس خیرسگالی کے بعد امید کی جارہی تھی کہ گورنر آر ٹی سی انضمام بل اور گورنر کوٹہ کی ایم ایل سی نشستوں کے ناموںکو منظوری دیں گی لیکن حکومت کو مایوسی ہوئی ہے۔ تقریباً تین ہفتے گذرنے کے باوجود گورنر نے جوابی خیرسگالی کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ گورنر کے عہدہ پر پانچویں سال کا آغاز راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان خوشگوار رہے گا یا پھر کشیدگی برقرار رہے گی۔ گورنر کا تعلق سابق میں بی جے پی سے رہا ہے اور وہ ٹاملناڈو میں بی جے پی کی ریاستی صدر رہ چکی ہیں لہذا اسمبلی الیکشن سے عین قبل گورنر کے فیصلوں پر سیاستدانوں اور عوام کی نظریں رہیں گی۔