گورنر عارف خان آر ایس ایس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گئے

   


عہدہ اور اختیارات کا غلط استعمال ، آئین کے وقار کی برقراری پر توجہہ نہیں :چیف منسٹر کیرالا وجین

تھرواننتاپورم: کیرالا کے گورنر عارف محمد خان کی طرف سے کیرالا کی 9 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو مستعفی ہونے کی ہدایت کے ایک دن بعدچیف منسٹر پنارائی وجین نے پیر کو کہا کہ گورنر اپنے اختیارات کے استعمال میں حد سے تجاوز کررہے ہیں ۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ گورنر آر ایس ایس کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن گئے ہیں ۔ وجین نے کہاکہ گورنر بہ لحاظ عہدہ ریاست کے تمام یونیورسٹیوں کا چانسلر ہوتا ہے ۔ گورنر کا کام حکومت کے خلاف اقدامات کرنا نہیں بلکہ آئین کے تقدس کو برقرار رکھنا ہوتا ہے لیکن کیرالا میں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا ہے ۔ کیرالا کے وزیر تعلیم آر بندو نے اتوار کو گورنر کے اقدام کی مذمت میں کہا تھا کہ یہ غیر جمہوری اور وائس چانسلروں کے اختیارات پر تجاوز ہے۔انھوں نے اے ایم خان کے 9 وائس چانسلروںکو مستعفی ہونے کی ہدایت دینے کے اقدام کی مذمت کی اور اسے ’’بدبختانہ صورتحال ‘‘ قرار دیا۔ وجین نے نیوز ایجنسی اے این آئی کے حوالے سے کہاکہ گورنر کا عہدہ حکومت کے خلاف حرکت کرنے کیلئے نہیں، بلکہ آئین کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے ہے۔ وہ ایک آلے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ گورنر نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست کی 9 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جس میں اس شہر میں اے پی جے عبدالکلام ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے VCs کی تقرری کو UGC کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر کالعدم قرار دیا گیا تھا۔راج بھون نے اتوار کو ایک بیان میں کہاکہ کیرالا کی 9 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو 24 اکتوبر 2022 کی صبح 11:30 بجے تک استعفیٰ دینے کی ہدایت کرنے والے خطوط جاری کیے گئے ہیں۔کیرالا کے 9 وی سیز نے گورنر کے احکامات کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔