گورنر نے نفرت انگیز تقریر بل کو مسترد نہیں کیا:سدارمیا

   

منگلورو، 11 جنوری (یو این آئی): کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ سدارمیا نے اتوار کو کہا کہ اسمبلی کی جاّنب سے متفقہ طور پر منظور کردہ نفرت انگیز تقریر کے بل کو گورنر نے مسترد نہیں کیا ہے ۔ سدارمیا نے میڈیا سے واضح کیا کہ گورنر تھاورچند گہلوت نے نہ تو اس بل کو واپس کیا ہے ، نہ ہی اسے مسترد کیا ہے اور نہ ہی اب تک اس پر اپنی منظوری دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب گورنر چاہیں گے تو ہم ضروری وضاحت پیش کریں گے ۔ بی جے پی کی جانب سے بلّاری سے مجوزہ پدیاترا کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سدارمیا نے کہا کہ کانگریس بھی پہلے پدیاترا نکال چکی ہے ۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب اسمبلی میں بلّاری میں غیر قانونی کانکنی کا مسئلہ اٹھایا گیا اور اس پر بحث ہوئی تو ریڈی برادران اور سابق وزیرِ اعلیٰ بی ایس یدی یورپا نے کانگریس کو چیلنج دیا تھا جس کے بعد پدیاترا کا انعقاد کیا گیا تھا۔ انہوں نے اب بی جے پی کی جانب سے پدیاترا نکالنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔ بلّاری میں پیش آئے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سدارمیا نے کہا کہ مہارشی والمیکی کے مجسمے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر لگائے گئے بینر کو ہٹانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بینر ہٹانے سے ہی اس واقعے کو ہوا ملی۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ جناردھن ریڈی اور بی۔ شری رامولو اپنے عہدے کھو دینے کے باعث حسد سے متاثر ہو کر یہ سب کر رہے تھے ۔