گورنر نے نمس ہاسپٹل پہنچ کر ابراہیم پٹنم واقعہ کے 11 خاتون مریضوں سے ملاقات کی

   

فی کس 10 ہزار روپئے امداد کی فراہمی، وجوہات کا پتہ چلانے تحقیقات کی ہدایت

حیدرآباد۔/4ستمبر، ( سیاست نیوز) گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے نمس ہاسپٹل پہنچ کر ابراہیم پٹنم واقعہ کی متاثرہ خاتون مریضوں سے ملاقات کی۔ گورنر نے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ فیملی پلاننگ آپریشن کی ناکامی کے سبب 4 خواتین کی موت کوئی معمولی بات نہیں ہے اس معاملہ میں ڈاکٹرس کی لاپرواہی کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ گورنر نے اس واقعہ میں متاثرہ خواتین کو پھل تقسیم کئے اور ان کی عاجلانہ صحت یابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ گورنر نے ڈاکٹرس سے خواتین کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت ڈاکٹر مجھے خواتین کی ابتر صورتحال پر افسوس ہے۔ نمس میں زیر علاج 11 خواتین سے ملاقات کرتے ہوئے گورنر نے فیملی پلاننگ آپریشن کی تفصیلات حاصل کی۔ انہوں نے آپریشن کے طریقہ کار اور نمس میں علاج کی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا۔ گورنر کے مطابق ہر خاتون صدمہ میں ہے اور ان تمام کا تعلق معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں سے ہے۔ گورنر نے اپنے اختیاری فنڈ کے ذریعہ ہر خاتون کیلئے فی کس 10 ہزار روپئے کی منظوری دی تاکہ وہ اپنی بہتر نگہداشت کرسکیں۔ گورنر نے راج بھون کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ گورنر کے اچانک نمس پہنچنے پر حکام نے چوکسی اختیار کی۔ گورنر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں وجوہات کا پتہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ نمس میں جاری علاج سے خواتین مطمئن ہیں اور وہ مالی امداد کی درخواست کررہے ہیں۔ اس معاملہ کو حکومت سے رجوع کیا جائے گا۔ گورنر نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا تدارک ہونا چاہیئے۔ گورنر کے مطابق کم وقت میں زائد فیملی پلاننگ آپریشن کا ٹارگٹ مقرر کرنے کے سبب یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ آپریشن میں لاپرواہی کے سبب انفیکشن پیدا ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے عوام فیملی پلاننگ آپریشن سے دور ہوجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری دواخانوں میں علاج کی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے وہ حکومت کو مکتوب روانہ کریں گی۔ر