گورنر کا فیصلہ وفاقی نظام کی کھلی خلاف ورزی

   

ملک میں ہندوستانی دستور چل رہا ہے یا بی جے پی کا دستور، کویتا کا استفسار

حیدرآباد۔ 26 ستمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس ایم ایل سی کے کویتا نے گورنر کی جانب سے حکومت کے سفارش کردہ دو ناموں کو مسترد کرنے پر برہمی کا اظہار کرکے استفسار کیا کہ ملک میں ہندوستان کا دستور چل رہا ہے یا بی جے پی کا دستور چل رہا ہے، گورنر کا یہ فیصلہ وفاقی نظام ی خلاف ورزی ہے۔ کونسل میں تلنگانہ مسلح جدوجہد میں شامل چکلی ایلماں کو خراج پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے گورنر کے رول پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کے گورنروں کا طرز کا رویہ دن بہ دن بدبختانہ بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستوری عہدوں کے حدود ہوتے ہیں۔ بی سی طبقہ کی آواز کو ایوان تک پہنچانے حکومت نے گورنر کوٹہ میں دو قائدین کو کونسل کارکن بنانے گورنر سے سفارش کی تھی جس کو گورنر نے مسترد کردیا ۔ اس سے ثابت ہوگیا ہیکہ بی جے پی مخالف بی سی طبقات ہیں ۔ پارٹی کے طرز عمل کا تلنگانہ عوام بالخصوص بی سی طبقات سخت نوٹ لیں۔ کویتا نے کہا کہ گہرائی سے جائزہ لیں تو بات دور تک جائے گی۔ گورنر منتخب ہونے سے قبل ڈاکٹر سوندرا راجن ٹاملناڈو بی جے پی صدر تھی جب وہ سیاستداں سے گورنر بن سکتی ہیں تو ڈی شراون اور کے ستیہ نارائنا گورنر کوٹہ میں ایم ایل سی کیوں نہیں بن سکتے ۔ ن