بنگلور : کرناٹک کی حکمراں کانگریس پارٹی نے پیر کے روز گورنر تھاور چند گہلوت کے وزیر اعلیٰ سدارمیا کے خلاف زمین گھوٹالے کے معاملے میں مقدمہ چلانے کی منظوری دینے کے فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج شروع کیا۔ یہ احتجاج میسورو اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (MUDA) کی پلاٹ الاٹمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں ہے ۔ بنگلور سے لے کر ریاست کے ساحلی شہر اُڈپی تک، کانگریس کے حامی اور قائدین بڑے پیمانے پر جمع ہوئے ۔ انہوں نے بینرس کے ساتھ نعرے لگاتے ہوئے گورنر پر اپنی حدود سے تجاوز کرنے اور مرکزی حکومت کی خوشامدی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے تحقیقات کی منظوری کی مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر گورنر نے اپنا فیصلہ تبدیل نہ کیا تو احتجاج میں شدت آئے گی۔ سدارمیا نے گورنر پر الزام لگایا کہ وہ ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپوزیشن پارٹیوں بشمول بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل (ایس) کی طرف سے رچی گئی بڑی سازش کا حصہ بن چکے ہیں۔ کرناٹک میں جاری سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔