حیدرآباد۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے گورنر کو مشورہ دیا کہ وہ مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف اپوزیشن کی نمائندگیوں کو وصول کریں۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے کانگریس وفد کو ملاقات کا وقت نہ دیئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہز ایکسلینسی گورنر ریاست کی دستوری سربراہ ہیں لہذا اپوزیشن کو ان کے علاوہ کوئی اور اتھارٹی نہیں ہے جن سے نمائندگی کرسکیں۔ واضح رہے کہ کورونا وباء کے پیش نظر گورنر عوامی نمائندگیاں راست قبول کرنے سے گریز کررہی ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے گورنرکی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی سماعت کریں۔ اگر وہ شخصی طور پر دیگر گورنرس طرح راست سماعت نہیں کرسکتیں تو انہیں کم از کم اپنا نمائندہ بھیجنا چاہیئے۔