گورنر کو گریٹر حیدرآباد کا کنٹرول اختیار میں لینے محمد علی شبیر کا مشورہ

   

Ferty9 Clinic

ہیلت ایمرجنسی کے نفاذ کی اپیل، کے سی آر نے دستوری عہدہ کی توہین کی
حیدرآباد۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن سے اپیل کی کہ تنظیم جدید قانون کے سیکشن 8 کو نافذ کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ گورنر آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون 2014 کے تحت 10 برسوں تک دارالحکومت حیدرآباد پر اپنے اختیارات کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ کورونا کے کیسس میں زبردست اضافہ ہورہا ہے اور لاکھوں خاندان پریشان ہیں لہذا عوامی زندگی کے تحفظ کیلئے گورنر کو اپنے اختیارات کے تحت گریٹر حدود میں ہیلت ایمرجنسی کا اعلان کرنا چاہیئے۔ انہوں نے گورنر کی ستائش کی جو سوشیل میڈیا پر عوامی مسائل کی سماعت کررہی ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عوامی مسائل کی سماعت اور ان کی یکسوئی کیلئے عہدیداروں کو ہدایت دیتے ہوئے گورنر نے بہتر مثال قائم کی ہے۔ افسوس کہ حکومت دستوری عہدہ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں غریب و متوسط طبقات کو کوئی داخلہ نہیں ہے اور روزانہ 70 تا80 اموات واقع ہورہی ہیں۔ مسلم قبرستان اور ہندو شمشان گھاٹ روزانہ میتوں اور ارتھیوں سے پُر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے اعلیٰ عہدیداروں اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی ستائش کی۔ چیف سکریٹری اور ہیلت سکریٹری کی عدم شرکت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف سکریٹری سومیش کمار کے سی آر کی چمچہ گیری کررہے ہیں کیونکہ انہیں آؤٹ آف ٹرن بنیاد پر چیف سکریٹری بنایا گیا۔ کئی سینئر عہدیداروں کی سینیارٹی نظرانداز کرتے ہوئے سومیش کمار کو چیف سکریٹری کے عہدہ پر فائز کیا گیا لہذا وہ دستوری عہدہ کے احترام سے زیادہ چیف منسٹر کی چمچہ گیری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تنظیم جدید قانون کے سیکشن 8 کے تحت گورنر کو اختیارات حاصل ہیں لہذا ڈاکٹر سوندرا راجن کو سیکشن 8 نافذ کرتے ہوئے عوامی زندگی کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ کانگریس اس سلسلہ میں گورنر سے شخصی طور پر نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر دستوری عہدہ ہے لیکن چیف منسٹر کے پاس اس عہدہ کا کوئی احترام نہیں۔ گورنر کو کورونا مریضوں، اموات اور ٹسٹوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ محمد علی شبیر نے قدیم سکریٹریٹ کی عمارتوں کے انہدام کی مذمت کی اور کہا کہ جس طرح روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا اُسی طرح تلنگانہ میں ہزاروں افراد کورونا کے سبب زندگی اور موت سے لڑرہے ہیں اور کے سی آر فارم ہاوز میں چھپ کر لطف اندوز ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی زندگی سے زیادہ کے سی آر کو سکریٹریٹ کی تعمیر سے دلچسپی ہے۔