گورنر کے خطبہ کے بغیر بجٹ اجلاس دستور کے مغائر: بھٹی وکرامارکا

   

عوامی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ، سی ایل پی اجلاس میں ریونت ریڈی اور اتم کمار ریڈی کی شرکت

حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ حکومت اسمبلی کا بجٹ اجلاس برائے نام منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بجٹ اجلاس کی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے منعقدہ لیجسلیچر پارٹی میٹنگ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ گورنر کے خطبہ کے بغیر بجٹ سیشن کا آغاز کرنا دستور کی رو کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے غیر معینہ مدت تک ملتوی نہ ہونے کا تکنیکی بہانہ بناکر حکومت گورنر کے خطبہ کے بغیر اجلاس منعقد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا خطبہ دراصل حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا رپورٹ کارڈ ہوتا ہے۔ حکومت نے گورنر کے خطبہ کے بغیر اجلاس طلب کرتے ہوئے اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں عوامی مسائل پر کانگریس پارٹی جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں کانگریس کی جانب سے زیر بحث لائے جانے والے مسائل کو پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کسانوں، نوجوانوں اور کمزور طبقات کے مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کے سی آر حکومت دستور اور جمہوریت کی رو کے خلاف کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی وجوہات کے نتیجہ میں گورنر کے خطبہ کو ٹال دیا گیا جبکہ یہ پارلیمانی روایات کا حصہ ہے۔ کوئی بھی پارٹی برسر اقتدار رہے وہ اس روایت کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے دستور پر بھروسہ نہیں ہے۔ ر