کنٹراکٹ، پارٹ ٹائم لکچرر س سے تعلیمی معیار متاثر
حیدرآباد ۔ 5 مارچ (سیاست نیوز) گورنمنٹ جونیر کالجس میں 5,395 منظورہ جائیدادوں میں ریاستی حکومت نے صرف 456 ریگولر لکچررس اور 26 پارٹ ٹائم لکچررس کے تقررات کئے ہیں جو 2014ء سے مخلوعہ جائیدادوں کے 10 فیصد سے کم ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے یہ بات کہی۔ سرکاری ڈیٹا کے مطابق جنرل اور ووکیشنل کورسیس کیلئے 6,008 منظورہ گورنمنٹ جونیر لکچررس ہیں۔ جنرل کورسیس کیلئے 5,395 منظورہ پوسٹس کے منجملہ صرف 456 ریگولر لکچررس کے تقررات کئے گئے ہیں جبکہ 26 پارٹ ٹائم لکچررس اور 2,981 کنٹراکٹ اساس پر ہیں۔ ووکیشنل کورسیس کیلئے 613 منظورہ پوسٹس میں صرف 8 ہی ریگولر لکچررس کے طور پر کام کررہے ہیں جبکہ 113 کو پارٹ ٹائم اساس پر اور 56 کو گھنٹہ کی اساس کے علاوہ 284 کو کنٹراکٹ اساس پر مامور کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر مدھوسدن ریڈی صدر گورنمنٹ جونیر لکچررس اسوسی ایشن، تلنگانہ نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 464 ریگولر لکچررس کے سوائے 2014ء سے ریگولر اساس پر کسی فیکلٹی ممبر کا تقرر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی پارٹ ٹائم اور کنٹراکٹ لکچررس نے اس کیلئے کوالیفائیڈ نہ ہونے کے باوجود جعلی سرٹیفکیٹس پیش کرکے جابس حاصل کئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اعتراف کیا کہ 2014ء سے کسی فیکلٹی کا تقرر نہیں کیا گیا اور تقریباً 5,200 ریگولر لکچررس کے پوسٹس مخلوعہ ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تمام لکچررس خواہ ریگولر ہوں یا دوسرے پوری طرح کوالیفائیڈ ہیں۔ مدھوسدن ریڈی نے کہا کہ ریگولر لکچررس کیلئے ماہانہ تنخواہ ہے 54,200 روپئے ڈی اے اور ایچ آر اے جیسے پرکس کے ساتھ۔ تاہم دیگر تمام زمروں میں لکچررس ماہانہ تنخواہ 54,200 حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹ اور پارٹ ٹائم لکچررس کی جانب سے منعقد کی جانیو الی کلاسیس متوقع معیار سے بہت نیچے کے درجہ میں ہوتی ہیں اور ان میں زیادہ تر لکچررس انگلش میں پڑھا بھی نہیں سکتے ہیں۔ دیگر گورنمنٹ لکچررس نے بھی کہا ہیکہ لکچررس کے ناقص رکروٹمنٹ سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے اور پرائیویٹ جونیر کالجس کے طلبہ کے مقابل معیار تعلیم کم تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم 2000 کوالیفائیڈ لکچررس کی خدمات فوری طور پر حاصل کی جانی چاہئے تاکہ طلبہ امتحانات اچھی طرح تحریر کرسکیں کیونکہ انٹرمیڈیٹ کسی کیلئے کیریئر کے انتخاب میں کافی اہم ہوتا ہے۔