گورنمنٹ چیف وہپ اور دیگر عہدوں پر تقررات دستور کے مطابق: سریدھر بابو

   

ہریش راؤ کے الزامات مسترد، 10 سالہ بی آر ایس دور حکومت کا محاسبہ کرنے کا مشورہ

حیدرآباد۔/13 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) وزیرامور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے اسمبلی اور کونسل میں تقررات کے خلاف سابق وزیر ہریش راؤ کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ گورنمنٹ چیف وہپ کے علاوہ دیگر عہدوں پر تقررات دستور کے مطابق کئے گئے ہیں ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کے عہدہ پر اے گاندھی اور کونسل میں گورنمنٹ چیف وہپ کے عہدہ پر پی مہیندر ریڈی کے تقرر میں دستور کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ اسمبلی قواعد کے عین مطابق یہ تقررات عمل میں لائے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر ہریش راؤ ہر مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ بی آر ایس دور حکومت میں ہریش راؤ وزیر امور مقننہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کے دور میں جو کچھ بھی فیصلے کئے گئے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں دستور کا خیال کیوں نہیں آیا۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے 12 ارکان اسمبلی نے یکے بعد دیگرے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ان کے خلاف کانگریس کی جانب سے کی گئی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی قواعد کا جائزہ لینے کے بعد ہی صدرنشین کونسل اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی نے تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی روایات کے مطابق اپوزیشن کے رکن کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے صدرنشین کے عہدہ پر مقرر کیا جاتا ہے۔ اے گاندھی کا تقرر اسی بنیاد پر کیا گیا۔ سریدھر بابو نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر التواء ہے۔ وزیر امور مقننہ نے ہریش راؤ سے کہا کہ وہ کانگریس حکومت پر تنقید کرنے سے قبل بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت کے فیصلوں کا جائزہ لیں۔ کانگریس کے منحرف ارکان کے خلاف کی گئی شکایت کی دس سال میں یکسوئی نہیں کی گئی اور آج اسی مسئلہ پر حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔1