صدرنشین کونسل کے بُلیٹن کو چیلنج کیا جائیگا، پی اے سی صدرنشین کے تقرر میں بھی خلاف ورزی
حیدرآباد۔/13 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے ریاستی حکومت کی جانب سے پی مہیندر ریڈی کو کونسل میں گورنمنٹ چیف وہپ مقرر کئے جانے پر سخت تنقید کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے حکومت سے سوال کیا کہ بی آر ایس سے تعلق رکھنے والے مہیندر ریڈی کو کس طرح گورنمنٹ چیف وہپ مقرر کیا گیا ہے۔ صدرنشین قانون ساز کونسل کے پاس مہیندر ریڈی کو کونسل کی رکنیت سے نااہل قرار دینے سے متعلق اپیل زیر التواء ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے گورنمنٹ چیف وہپ مقرر کرنا دستور کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدرنشین کونسل نے مہیندر ریڈی کو گورنمنٹ چیف وہپ مقرر کرتے ہوئے جو بلیٹن جاری کیا ہے وہ انہیں نااہل قرار دینے کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدرنشین کے بلیٹن کو پہلے سے زیر التواء درخواست سے مربوط کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مہیندر ریڈی نے 15 اگسٹ اور 17 ستمبر کو رکن کونسل کی حیثیت سے قومی پرچم لہرایا جبکہ انہیں 15 مارچ سے گورنمنٹ چیف وہپ قرار دیتے ہوئے بلیٹن جاری کیا گیا ہے۔ بی آر ایس پارٹی اس سلسلہ میں گورنر جیشنو دیو ورما اور چیف سکریٹری شانتی کماری سے نمائندگی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ منحرف ارکان کے بارے میں حکومت کی جانب سے گورنر کو غلط معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ ہریش راؤ نے مہیندر ریڈی کے تقرر کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت دستور اور قانون کی مسلسل خلاف ورزیاں کررہی ہے۔ چیف وہپ کا کونسل میں اہم رول ہوتا ہے اور سرکاری بلز کی منظوری اور سرکاری کام کاج کی تکمیل میں وہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ مہیندر ریڈی آخر کس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جس کی بنیاد پر انہیں گورنمنٹ چیف وہپ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدرنشین مہیندر ریڈی کے بارے میں بی آر ایس کے وہپ کے بجائے اپنے علحدہ وہپ کے ذریعہ من مانی کررہے ہیں۔ بی آر ایس نے مہیندر ریڈی کے خلاف انحراف کی شکایت درج کرائی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ بی آر ایس رکن کونسل کی حیثیت سے شناخت رکھنے والے مہیندرریڈی کو حکومت نے گورنمنٹ چیف وہپ مقرر کرتے ہوئے قانون اور دستور کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی صدرنشین کے معاملہ میں بھی حکومت نے دستور کی خلاف ورزی کی۔ اسپیکر نے اسمبلی کے اختتام کے وقت جو اعداد و شمار جاری کئے تھے ان کے مطابق اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کی تعداد 38 ہے۔ اسپیکر کے اعلان کے مطابق اے گاندھی بی آر ایس کے رکن ہیں لیکن انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیا گیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ گاندھی اور مہیندر ریڈی دونوں کے خلاف انحراف کی درخواست زیر التواء ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس صدرنشین کونسل کے اعلامیہ کو چیلنج کرے گی۔1