گورنمنٹ ہائی اسکول، رسول پورہ کی خستہ حالت پر فوری توجہ کی ضرورت

   

حیدرآباد ۔ یکم ؍ جنوری (سیاست نیوز) یوں تو شہر کے تقریباً تمام گورنمنٹ اسکولس میں مناسب انفراسٹرکچر اور دیگر سہولتوں کا فقدان ہے۔ رسول پورہ میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول کی عمارت نہایت خستہ حالت میں ہے اور اس کی مرمت وغیرہ کیلئے فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس اسکول میں خاکروب نہ ہونے کی وجہ طلبہ گندگی والے ٹائلیٹس استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ یہاں کلرکس نہیں ہیں۔ 25 سالہ قدیم یہ اسکول ایک ویران جگہ جیسا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس میں اچھی طرح جاروب کشی نہیں کی جاتی ہے اور ٹائلیٹس کو صاف نہیں کیا جاتا ہے۔ اس اسکول کے ایک کلاس روم کے کنارے پر ڈالے گئے مٹی اور ریت کا ڈھیر ہوگیا ہے۔ اس اسکول میں جس میں طلبہ کی تعداد 750 ہے، صرف چار ٹائلیٹس ہیں۔ دو لڑکوں کیلئے اور دو لڑکیوں کیلئے۔ انہیں صاف نہیں کیا جاتا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہیکہ صحت و صفائی کے مسائل اور صفائی نہ ہونے کی وجہ وہ بہت متاثر ہورہے ہیں۔ یہاں مینٹینس ٹھیک طور پر نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ انہیں دشواری ہوتی ہے۔ واش رومس سے بدبو آتی ہے جو صحت کیلئے مضر ہے۔ کلاس رومس اور اسکول میں ٹھیک سے جھاڑو نہیں دی جاتی ہے اور صفائی نہیں ہوتی ہے۔ ہیڈماسٹر جیون پرکاش نے کہا کہ ’’چند کلاس رومس کو مقفل رکھا گیا ہے۔ دو کلاسیس کے طلبہ ایک کلاس روم میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ کئی کلاس رومس کی دیواروں میں شگاف ہوگئے ہیں حتیٰ کہ فلور بھی خراب ہوگیا ہے۔ مختلف کلاسیس کے طلبہ ایک سنگل روم میں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ ٹیچرس کو تدریس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہماری جانب سے اس سلسلہ میں توجہ دلانے پر متعلقہ عہدیداروں نے ہمیشہ نظرانداز کیا ہے۔ ہم نے ان سے اسکول کیلئے ایک نئی عمارت کی تعمیر کیلئے فنڈس منظور کرنے کیلئے کہا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکول میں بعض وقت ٹیچرس کو مجبوراً کلرکس کا کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ طلبہ کی تعلیم پر منفی اثر ہورہا ہے۔ ہم کلاس رومس کو صاف رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ فنڈس نہ ہونے کی وجہ ہم صفائی عملہ کو نہیں رکھ پارہے ہیں۔ نصابی کتب اور نوٹ بکس سربراہ نہیں کئے جاتے ہیں۔ عہدیدار اس اسکول کی خستہ حالت سے واقف ہیں لیکن اب تک اس سلسلہ میں کچھ بھی نہیں کیا گیا۔