حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) گستاخ رسولﷺ و ملعون رکن اسمبلی گوشہ محل کے خلاف مجلس کی جانب سے امیدوار میدان میں اتارنے سے اجتناب اور حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے غیر مقامی شخص کو امیدوار بنائے جانے کی صورت میں مجلس کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔سابق کارپوریٹر جناب خواجہ بلال احمد جو حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے راجہ سنگھ کے خلاف مقابلہ کے خواہشمند تھے اور اپنی اس خواہش سے صدر مجلس کو بھی واقف کرواچکے تھے وہ اب حلقہ گوشہ محل سے مجلس کی جانب سے امیدوار میدان میں نہ اتارے جانے اور غیر مقامی فرد کو حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے امیدوار بنائے جانے کی اطلاعات کے ساتھ ہی انہوں نے جماعت سے علحدگی اختیار کرنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اور وہ جلد ہی اس سلسلہ میں اعلان کرسکتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ حلقہ اسمبلی گوشہ محل سے جہاں پارلیمانی انتخابات میں زائد از 50ہزار ووٹ مجلس کو حاصل ہوتے ہیں اس حلقہ اسمبلی سے راجہ سنگھ کے خلاف امیدوار میدان میں نہ اتارے جانے پر مجلسی حلقوں میں ہی ناراضگی پائی جارہی ہے اور اب حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے غیر مقامی امیدوار کو میدان میں اتارے جانے کی اطلاعات نے حلقہ کے کارپوریٹرس اور قائدین میں بے چینی کی کیفیت پیدا کردی ہے اور کہا جا رہاہے ان میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور وہ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہوئے ان اطلاعات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے امیدوار کی تبدیلی کے فیصلہ کے بعد کارپوریٹرس کا کہنا ہے کہ اگر قیادت کو پورے حلقہ اسمبلی میں کوئی رکن اسمبلی کے لئے اہل نظر نہیں آرہا ہے تو ایسی صورت میں اب تک کی ان کی خدمات کو نہ صرف نظر انداز کرنے کے مترادف ہے بلکہ عوام کے درمیان رہنے والے کارپوریٹرس اور سینیئر قائدین کو غیر اہم اور غیر اہل ہونے کا تاثر دیا جا رہاہے ۔جناب خواجہ بلال احمد کے کانگریس سے گہرے روابط کے سبب سمجھا جار ہاہے کہ وہ جلد ہی مجلس سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے دوبارہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور کارپوریٹر نے غیر مقامی شخص کو امیدوار بنائے جانے کی اطلاعات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین جماعت کے خاندان سے جماعت میں شامل کرواتے ہوئے کارپوریٹر ‘ ڈپٹی مئیر اور دو مرتبہ رکن اسمبلی بنائے جانے کے بعد بھی اب انہیں دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق کارپوریٹر نے استفسار کیا کہ آیا جماعت میں ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے جماعت سے بغاوت ضروری ہے یا جماعت کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کیلئے باغیانہ سرگرمیوں کا حصہ بنے رہنا لازمی ہے!حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے غیر مقامی امیدوار کو میدان میں اتارے جانے کی اطلاعات پر سرگرم کارکن اور کارپوریٹرس میں مشاورت شروع ہوچکی ہے اور بعض سرگرم کارکن جو کارپوریٹرس کے حامیوں میں شمارکئے جاتے ہیں وہ اپنے اپنے طور پر آئندہ کے لائحہ عمل کے متعلق تبادلہ خیال کرنے لگے ہیں۔