گوشہ محل کے ٹی آر ایس اجلاس میں قائدین کا ایک دوسرے پر حملہ

   

گروہ بندیاں منظر عام پر، اجلاس افراتفری کا شکار، پولیس کو مداخلت کرنی پڑی

حیدرآباد۔ کونسل کی گریجویٹ نشست کیلئے انتخابات کے سلسلہ میں گوشہ محل اسمبلی حلقہ کا ٹی آر ایس کا اجلاس پارٹی قائدین میں جھڑپ اور مار پیٹ کے نتیجہ میں افراتفری کا شکار ہوگیا۔ گوشہ محل اسمبلی حلقہ میں گریجویٹ رائے دہندوں کے ناموں کی شمولیت کے سلسلہ میں رام کوٹ علاقہ میں تمام ڈیویژنس کے ذمہ داروں اور کارکنوںکا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی اور سابق رکن اسمبلی پریم سنگھ راتھوڑ کے علاوہ حلقہ کے کارپوریٹرس شہ نشین پر موجود تھے۔ اجلاس کے دوران تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والے مہیندر کمار نامی شخص نے شکایت کی کہ پارٹی جدوجہد میں حصہ لینے والوں کو نظرانداز کررہی ہے۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک سے وابستہ افراد کو شہ نشین پر جگہ فراہم نہ کرنے پر تنقید کی۔ اجلاس کے دوران وہ شہ نشین کے قریب پہنچ کر احتجاج کرنے لگے جس پر پارٹی کے دیگر قائدین نے اعتراض جتایا۔ وزیر داخلہ اور دیگر افراد نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن صورتحال اس وقت بے قابو ہوگئی جب دیگر قائدین نے اس شخص پر حملہ کردیا۔ اس موقع پر دونوں گروپس ایک دوسرے پر گالی گلوج کرتے ہوئے حملہ آور ہوئے۔ اجلاس میں افراتفری مچ گئی اور وزیر داخلہ نے برہم قائدین کو قابو میں کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ناراض قائدین کو شہ نشین پر طلب کیا گیا لیکن مخالف گروپ اس کے لئے تیار نہیں تھا۔ اجلاس میں حلقہ گوشہ محل کے پارٹی قائدین کی گروہ بندیاں منظر عام پر آگئیں اور پریم سنگھ راتھوڑ کو کہنا پڑا کہ ڈسپلن شکنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دونوں گروپس کے درمیان کشمکش و جھڑپ کے نتیجہ میں اجلاس کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا اور اجلاس کے اختتام کے بعد بھی قائدین ایک دوسرے کے خلاف گالی گلوج کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ آخر کار پولیس کو مداخلت کرتے ہوئے قائدین کو منتشر کرنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدی انتخابات کے پیش نظر گوشہ محل کے ڈیویژنس میں پارٹی ٹکٹ کے دعویدار ابھی سے سرگرم ہوچکے ہیں۔ ٹکٹوں کی دعویداری کے نتیجہ میں کئی گروپ ایک دوسرے کے خلاف متحرک ہوگئے جس کا مظاہرہ کونسل کے انتخابی اجلاس میں دیکھنے کو ملا۔