گولکنڈہ کے مشہور درخت تک عوام کی عدم رسائی

   

Ferty9 Clinic

درخت 430 سال قدیم، درخت کے اندرغار میں 40 افراد پناہ لے سکتے ہیں

درخت کی بگڑتی حالت کی وجہ کا پتہ چلانے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے ٹسٹ کروائے

حیدرآباد: ہاتھیوں کا جھاڑ گولکنڈہ کے نیا قلعہ میں موجود ہے یہ درخت شہر میں واقع ہے جو سب سے بڑے درختوں میں سے ایک ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ درخت افریقہ سے باہر سب سے بڑا اعظم ترین درخت ہے۔ اس درخت نے اب تک مختلف حکمرانوں کو دیکھا ہے۔ گولکنڈہ پر حکومت کرنے والے کئی حکمرانوں کے عروج اور زوال کا شاہد ہے۔ درخت گذشتہ چار صدیوں کے دوران کئی حکمرانوں کے نشیب و فراز بھی دیکھے ہیں۔ یہ درخت تاریخی قلعہ کے اندر موجود ہونے کے باوجود یہاں آنے والے سیاح اس درخت تک پہونچنے سے قاصر ہیں۔ گذشتہ ایک دہے سے جب سے اس درخت کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے گئے ہیں وزیٹرس کی پہونچ سے باہرہے ۔ اب بھی اس درخت تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اجازت کے بغیر اس درخت تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ نیا قلعہ کا پورا علاقہ حیدرآباد گولف کورس ( ایچ جی سی ) کے زیر کنٹرول ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ درخت زائد از 430 سال پرانا ہے۔ اس کی تاریخ کے مطابق اس درخت کو عرب تاجروں نے بانی شہر محمد قلی قطب شاہ کو تحفہ میں دیا تھا۔ اس درخت کی چوڑائی 27.40 میٹر ( 89 فیٹ ) ہے ۔ اس کے پیڑ اور جڑوں کے اندر جو غار یا سوراخ پایا جاتا ہے اس میں تقریباً 40 افراد پناہ لے سکتے ہیں۔ قطب شاہی دور میں یہاں غیر سماجی عناصر چور اچکے پناہ لیتے تھے۔ اس درخت کو دیکھنے والوں کو اندازہ ہوگا کہ یہ درخت اس انداز سے پھیلا ہوا ہے کہ یہ ہاتھی کے پیروں کی طرح دکھائی دیتا ہے۔اس درخت کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ ہمیشہ ہرابھرا رہنے والا یہ درخت اب دھیرے دھیرے سوکھتا جارہا ہے اور اس کے پتے جھڑنے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ( اے ایس آئی ) نے درخت کا طبی معائنہ بھی کروایا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس درخت پر مزید تحقیق کی جائے گی تاکہ ڈالیوں اور پتوں کے سوکھنے کی وجوہات کا پتہ چلایا جاسکے۔ مقامی افراد کے مطابق نیا قلعہ حیدرآباد میں گولف کورس کی تعمیر کے بعد اس درخت کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے بری طرح نظر انداز کردیا ہے ، یہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری عہدیدار اس علاقہ کا دورہ کرتے ہیں اور نہ درخت کی بگڑتی حالت کا پتہ چلایا جارہا ہے۔ کم از کم گذشتہ 15 سال سے یہ علاقہ سخت ترین سیکوریٹی کے تحت ہے۔ جب سے حیدرآباد گولف کورس قائم کیا گیا ہے اُس وقت سے کوئی اس درخت کا پرسان حال نہیں ہے۔ پورا علاقہ گولف کورس انتظامیہ کے تحت ہے۔ چند ماہ قبل درخت کے اندر پیدا شدہ سوراخ کھل گیا اور انتظامیہ نے وزیٹرس کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی لیکن اب اسے تار لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ گولکنڈہ کے ایک شہری محمد رفیع نے بتایا کہ نیا قلعہ میں واقع اس درخت کی دیکھ بھال نہیں ہورہی ہے۔یہاں پر دو مساجد بھی ہیں،مصطفی خان مسجد جس کو 1561 میں تعمیر کیا گیا تھا جو قیام حیدرآباد سے قبل کی تعمیر ہے۔ مُلا خیالی مسجد کی تعمیر دکن کے شاعر مُلا خیالی کے نام سے بنائی گئی تھی ۔ یہ دونوں مساجد گولکنڈہ کی ابتدائی تاریخ کے فن تعمیرات سے مزین ہیں۔ دونوں مساجد اب بھی غیرآباد ہیں ۔ کئی برس سے یہاں پر نماز ادا نہیں کی گئی۔ مُلا خیالی مسجد اس تاریخی قدیم بیوباب درخت سے بالکل قریب ہے۔(Baobab)بیوباب درخت دراصل افریقہ میں پایا جانے والا درخت ہے جس کو حیدرآباد میں بطور تحفہ لایا گیا تھا۔