حیدرآباد۔/9 جنوری، ( سیاست نیوز) دنیا لاکھ ترقی کرلے لیکن بعض قدیم اور نایاب اشیاء کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چند برسوں تک بھی حیدرآباد میں گاہے ماہے سڑکوں پر گولی سوڈا کی آواز گونجتی رہی اور لوگ اپنی پیاس بجھانے کیلئے کولڈرنکس کی بجائے گولی سوڈا کو ترجیح دیتے رہے۔ ترقی اور نئے کولڈرنکس کے عام ہوتے ہی گولی سوڈا کی مقبولیت اور مانگ میں کمی آگئی لیکن پھر ایک بار عوام گولی سوڈا کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ کولڈرنکس اور دیگر مشروبات سے صحت کو نقصان کے پیش نظر عوام مختلف آمیزش والے گولی سوڈا کے استعمال کے حق میں ہیں جو کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں نہیں بلکہ گھر میں تیار کیا جاتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہمہ رنگی گولی سوڈا فروخت کیلئے دکھائی دے رہا ہے اور ہر رنگ کا مزہ الگ ہے۔ ر