حضورآباد انتخابات کے بعد ٹی آر ایس کے 15 ارکان اسمبلی کانگریس میں شامل ہوں گے : محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 23 اکٹوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئرق ائد سابق وزیر محمد علی شبیر نے ریاستی وزیر کے ٹی آر کی جانب سے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی کو ناتھورام گوڈسے قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گوڈسے کا نیا اوتار پرگتی بھون میں آرام کررہا ہے۔ دراصل کے سی آر مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کے پیروکار ہے جو ناتھورام گوڈسے کے شاگرد ہیں۔ حضورآباد انتخابات کے بعد ٹی آر ایس کے 15 ارکان اسمبلی کانگریس میں شامل ہونے کیلئے تیار ہے۔ تلنگانہ کانگریس سیاسی امور کے کنوینر محمد علی شبیر نے کہا کہ حضورآباد کے عوام کی جانب سے ٹی آر ایس کو مسترد کردیا جارہا ہے جس سے ٹی آر ایس کے قائدین پریشان ہیں، بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کے ٹی آر نے کانگریس اور ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ جو لوگ گاندھی جی کے نظریات کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہی گوڈسے کے پیروکار ہیں۔ محمد علی شبیر نے کانگریس اور بی جے پی میں مفاہمت ہوجانے کے الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا جانتی ہے، کانگریس تنہا تلنگانہ کے بشمول ملک کے کونے کونے میں بی جے پی کے خلاف لڑرہی ہے لیکن ٹی آر ایس 2014ء سے بی جے پی کے زیراقتدار مرکزی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید و حمایت کررہی ہے۔ نوٹ بندی سے کسانوں کے سیاہ زرعی قوانین تک ٹی آر ایس نے مودی حکومت کی حمایت کی۔ صدرجمہوریہ، نائب صدرجمہوریہ، صدرنشین راجیہ سبھا، نائب صدرنشین راجیہ سبھا کے انتخابات میں ٹی آر ایس نے بی جے پی یا اس کی تائیدی امیدواروں کا ساتھ دیا ہے۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر سے استفسار کیا کہ وہ امیت شاہ سے کیوں ملاقات کرتے ہیں اس کی عوام سے وضاحت کریں۔ ٹی آر ایس اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے بعد ایٹالہ راجندر نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی جس میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی بھی شامل تھے لیکن کے ٹی آر اس کو حضورآباد الیکشن کے ضمن میں ملاقات قرار دیتے ہوئے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ حضورآباد میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے کے ٹی آر خوفزدہ ہیں جس کی وجہ سے وہ جھوٹ کا سہارا لینے پر مجبور ہورہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس میں کبھی بھی بغاوت ہوسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کے 15 ارکان کانگریس سے رابطے میں ہے کسی بھی وقت کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ن