گوڈسے کے حامی مجھے بھی گولی مار سکتے ہیں : اسد اویسی

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔14 ۔ اگست (سیاست نیوز) رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اور مجلس کے صدر اسد اویسی نے کہا کہ کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کی مخالفت کرنے پر ناتھورام گوڈسے کے حامی انہیں ہلاک کرسکتے ہیں۔ گوڈسے کے حامیوں نے جس طرح مہاتما گاندھی کو گولی ماری تھی، وہ مجھے بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔ حیدرآباد میں آج اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران اسد اویسی نے کہا کہ مرکزی حکومت کو کشمیر سے محبت ہے، کشمیریوں سے نہیں۔ وہ اقتدار کے بارے میں فکرمند ہیں جبکہ انصاف کی فراہمی اور عوام کی خدمت سے کوئی مطلب نہیں۔ جموں و کشمیر میں افواہوں کو پھیلاتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے سے متعلق بی جے پی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے اسد اویسی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایک دن گوڈسے کے حامیوں نے جس طرح مہاتما گاندھی کو گولی ماری تھی ، مجھے بھی گولی ماردیں گے ۔ میرا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسد اویسی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے دستور کو فراموش کردیا ہے ۔ کشمیری عوام کو ایمرجنسی صورتحال میں رکھا گیا۔ جو لوگ بی جے پی کی تائید کررہے ہیں انہیں انٹر نیٹ کنکشن اور سفر کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 80 لاکھ کشمیری عوام کو ٹیلی فون پر بات چیت کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟۔ اسد اویسی نے370 کی منسوخی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تمام گرفتار شدگان کی رہائی کی مانگ کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کشمیر میں غیر مسلم چیف منسٹر کو دیکھنا چاہتی ہے اسی لئے ریاست کو تقسیم کیا گیا ہے۔ اسد اویسی نے کہا کہ حکومت بہت جلد ناگالینڈ ، میزورم، منی پور ، ـآسام اور ہماچل پردیش کا خصوصی موقف بھی ختم کردے گی۔ میں رکن پارلیمنٹ ہوں لیکن ارونا چل پردیش و لکشا دیپ نہیں جاسکتا اس کے لئے مجھے اجازت لینی ہوگی۔ کیا میں آسام کے شیڈول علاقوں میں اراضی خرید سکتا ہوں؟ ۔ میں ناگالینڈ ، میزورم ، منی پور ، آسام اور ہماچل کے عوام سے کہہ رہا ہوں کہ جو کچھ کشمیر کے ساتھ ہوا اُن کے ساتھ بھی ہوگا۔

اسد اویسی کا بیان مضحکہ خیز ، گرتی ساکھ بچانے کی کوشش: مجید اللہ خاں فرحت
حیدرآباد۔/14 اگسٹ( سیاست نیوز) صدر مجلس بچاؤ تحریک مجید اللہ خاں فرحت نے اسد اویسی کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں شہرت کے لئے مسلمانوں کو الجھن میں مبتلا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمان پہلے ہی کافی پریشان ہیں۔ اس طرح کے بیانات کا مقصد مسلمانوں کو عدم تحفظ کا شکار کرنا ہے۔ مجید اللہ خاں فرحت نے کہا کہ اچھی قیادت کا یہ شعار نہیں ہوتا کہ وہ قوم کو پست ہمت کرے۔ قیادت کو چاہئے کہ وہ کمربستہ ہوکر مسلمانوں کے حقوق کے لئے دستور کے دائرہ میں جدوجہد کرے۔ صدر ایم بی ٹی نے کہا کہ میڈیا کا سہارا لے کر اپنے گرتے ہوئے امیج کو بچانے کی یہ کوشش ہے۔ اگر رکن پارلیمنٹ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں ، جس کا وہ بارہا اظہار کرچکے ہیں تو پھر انہیں خوف کیوں ہورہا ہے؟ مجید اللہ خاں فرحت نے کہا کہ لوک سبھا میں اسد اویسی کو اظہار خیال کیلئے بھرپور وقت دیا جارہا ہے ، اسپیکر اور حکومت دونوں ان پر مہربان ہیں۔
اس کے باوجود زندگی کو خطرہ کا تذکرہ میڈیا کے ذریعہ کرنا مضحکہ خیز ہے۔ رکن پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ پارلیمنٹ میں اظہار خیال کریں یا پھر وزیر داخلہ سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے لئے سیکوریٹی کو یقینی بنائیں۔ میں خود بھی چاہتا ہوں کہ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد محفوظ اور سلامت رہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر سے صدر مجلس کی خاص دوستی ہے اور وہ اپنے بھائی کی طرح خود کیلئے بھی زیڈ پلس سیکوریٹی حاصل کرسکتے ہیں ۔ مجید اللہ خاں فرحت نے کہا کہ ایک ذمہ دار رکن پارلیمنٹ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح کی بیان بازی کے ذریعہ شہرت پسندی کی کوشش نہ کریں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ صدر مجلس احساس کمتری کا شکار ہوچکے ہیں اور وہ خود کو قیادت کا اہل نہیں سمجھتے۔ صدر ایم بی ٹی نے کہا کہ اگر واقعی خطرہ لاحق ہے تو پھر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سیکوریٹی کی عدم فراہمی پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے۔ صدر ایم بی ٹی نے ریمارک کیا کہ اللہ سے ڈرنے کی بات کرنے والے کیوں خوفزدہ ہیں اور قوم کو الجھن کا شکار کر رہے ہیں ؟