گٹکھے کا غیر قانونی منتقلی کا ذخیرہ ضبط

   

تلنگانہ میں تاحال سب سے بڑی کارروائی، تین افراد گرفتار، انجنی کمار پولیس کمشنر کا بیان
حیدرآباد۔ حیدرـآباد سٹی پولیس نے گٹکھے کی غیر قانونی منتقلی کے ایک بڑے ریاکٹ کو بے نقاب کردیا۔ سٹی پولیس نے آج علحدہ کارروائیوں میں ایک کروڑ سے زائد مالیتی گٹکھا کو ضبط کرلیا۔ یہ بات کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر انجنی کمار نے بتائی۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ریاست میں گٹکھے کے خلاف اب تک یہ سب سے بڑی کارروائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیگم بازار میں واقع نوبھارت روڈ ٹرانسپورٹ کے مالک اور دیگر دو افراد کے علاوہ گٹکھا کی منتقلی میں ملوث تین افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ کمشنر پولیس نے کہا کہ اعظم، ابوبکر بن اکلیاس عمر بن علی کو ایک کارروائی میں گرفتار کیا گیا جبکہ اس ٹولی کے دیگر دو افراد ذکی اور عثمان جمیاڑی مفرور ہیں۔اس کے ساتھ نو بھارت ٹرانسپورٹ بیگم بازار کے مالک پرتاپ کمار بھاسکر اورامیت انیل یادو کے علاوہ موہن رگھوے کو گرفتار کیا گیا۔ حیدرآباد سٹی پولیس شہر کو مٹکہ اور گٹکھا سے پاک کرنا چاہتی ہے اور اس اقدام میں سٹی پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہورہی ہے۔ قمار بازی، قحبہ گری، گٹکھا، مٹکہ اور دیگر غیر سماجی حرکتوں پر سختی سے نمٹا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نارتھ زون اور ساؤتھ زون ٹاسک فورس کی ٹیموں نے مستعدی سے کام کرتے ہوئے اس سازش کو بے نقاب کردیا۔ ریاست میں ممنوعہ ان اشیاء کو پڑوسی ریاستوں کے علاقوں بیدر اور ناندیڑ سے منتقل کیا جارہا تھا۔ پولیس نے اس سلسلہ میں ٹرک کو بھی ضبط کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2020 میں 689 افراد کو گرفتار کرتے ہوئے 654 مقدمات گٹکھا کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف درج کئے گئے جبکہ سال 2021 میں تاحال 159 مقدمات درج کرتے ہوئے173 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کمشنر پولیس نے گٹکھا اور تمباکو کے خلاف کارروائی میں ساؤتھ زون ٹاسک فورس کے انسپکٹر راگھویندرا کی کارکردگی کی زبردست ستائش کی اور ان کی ٹیم کی سراہنا کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈی سی پیز ٹاسک فورس اور دیگر موجود تھے۔