محبوبہ مفتی کا جوابی وار، کہا، بی جے پی اقتدار کیلئے چاہے جس پارٹی سے مفاہمت کرلے لیکن ہم کریں تو دیش دروہی
وزیرداخلہ امیت شاہ کا ٹوئیٹ
نئی دہلی: مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے آج جموں و کشمیر کے قائدین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر یہ الزام عائد کیا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد اس کی بحالی کیلئے یہ قائدین ’’بیرونی طاقتوں‘‘ کو اس معاملہ میں مداخلت کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور اس طرح مرکزی حکومت کے تحت علاقہ میں ایک بار پھر خواتین اور دلتوں کے حقوق کو سلب کرتے ہوئے دہشت گردی کے راج کو دوبارہ لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امیت شاہ نے کئی ٹوئیٹس کرتے ہوئے کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو گپکار اعلامیہ کی ایک دستخط کنندہ پارٹی ہے۔ امیت شاہ نے اس معاملہ پر کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ امیت شاہ کے ٹوئیٹس کے بعد جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی فوری جوابی ٹوئیٹس کرتے ہوئے بی جے پی پر فرسودہ ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ نیشنل کانفرنس سربراہ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اتحاد کے انتخابات لڑنے کے فیصلہ نے امیت شاہ کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ہے۔ امیت شاہ کے مطابق کانگریس اور گپکار گینگ جموں و کشمیر کو ایک بار پھر دہشت گردی کے دور کی طرف واپس لے جانا چاہتے ہیں اور خواتین اور دلت سے ان کے حقوق چھین لینا چاہتے ہیں جس کی انہوں نے دفعہ 370 کی بحالی کا وعدہ کرتے ہوئے حقوق کی بحالی کا بھی تیقن دیا ہے۔ امیت شاہ نے کہا کہ یہی وجہ ہیکہ ان قائدین کو ہر جگہ مسترد کیا جارہا ہے۔ یاد رہیکہ گپکار گینگ دراصل گیکار اعلامیہ کے لئے عوامی اتحاد کی شکل ہے جو جموں و کشمیر کے قائدین کے ایک گروپ پر مشتمل ہے جن میں فاروق عبداللہ، ان کی کٹر حریف محبوبہ مفتی اور سجاد لون شامل ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کے دفعہ 370 کی بحالی اور کشمیر کی قرارداد کیلئے حریف نہ رہ کر حلیف بننے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری طرف دائیں بازو کے قادئین ان تمام قائدین کو قوم مخالف قرار دیا خصوصی طور پر ماہ ستمبر میں فاروق عبداللہ کی پارلیمنٹ میں تقریر کے بعد جہاں انہوں نے پاکستان سے بات چیت کرنے کی وکالت کی تھی۔ 83 سالہ فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ ختم کرنے کیلئے ہندوستان چین سے بات کرسکتا ہے اور جموں و کشمیر کی سرحد پر پائے جانے والے تنازعہ کے خاتمہ کیلئے دیگر پڑوسی ممالک سے بھی بات چیت کی جاسکتی ہے۔ بی جے پی نے محبوبہ مفتی کے خلاف غداری کا الزام عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ محبوبہ مفتی نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک جموں و کشمیر کا خصوصی پرچم واپس نہیں لایا جاتا وہ ترنگا پرچم نہیں لہرائیں گے۔ یاد رہیکہ گذشتہ سال اگست میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت یعنی دفعہ 370 کو ختم کرتے ہوئے اس کے پرچم کو بھی کالعدم قرار دیا گیا تھا اور ریاست کو دو مرکز کے تحت ریاستوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ امیت شاہ نے اپنے ایک دیگر ٹوئیٹ میں کہا کہ جموں و کشمیر ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ ملک کے عوام اس ’’ناپاک گٹھ بندھن‘‘ کو قبول نہیں کریں گے۔ اگر گپکار گینگ نے قومی دھارے میں بہنے کی کوشش نہیں کی تو عوام خود اسے ڈبو دیں گے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی دوغلے نظریات والی پارٹی ہے۔ انتخابات لڑنے اور اقتدار حاصل کرنے کیلئے وہ کسی بھی پارٹی سے اتحاد کرسکتی ہے اور اسے جائز قرار دیتی ہے اور اگر ہم اتحاد تشکیل دیتے ہیں تو بی جے پی کے سینے پر سانپ لوٹتے ہیں۔ آج حکومت کو بیروزگاری اور افراط زر کو قابو میں کرنے کی جانب دھیان دینا چاہئے لیکن لوجہاد، ٹکڑے ٹکڑے اور گپکار گینگ پر توجہ دی جارہی ہے۔