حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : جوبلی ہلز تا گچی باولی جو کبھی ایک بنجر اور پتھریلی زمین تھی اب رئیل اسٹیٹ کے لیے بہت اہم اور شدت سے مطلوب جگہ بن گئی ہے ۔ اس علاقہ میں بڑی آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے ان کے کیمپسس کے قیام ، انتہائی ضروری شاپنگ مالس ، ہائی اسٹریٹ فوڈ جوائنٹس ، ہاسپٹلس اور فائیو اسٹار ہوٹلس کے ساتھ یہ پوری سڑک اب حیدرآباد کے ویسٹرن کاریڈر کا تاج بن گئی ہے ۔ گچی باولی سے قریب میں رہائشی جگہ اب ایک کروڑ روپئے سے کم میں دستیاب نہیں ہورہی ہے ۔ کوئی اگر ایک کشادہ اپارٹمنٹ یا ولا خریدنا چاہے تو اس سے زیادہ رقم ادا کرنا ہوگا ۔ قلب شہر کا حصہ سمجھے جانے والے یہ علاقے اب بہت اہم ہوگئے ہیں ۔ جی رام ریڈی ، نیشنل وائس پریسیڈنٹ Credai کا کہنا ہے کہ ’ شہر میں اب 40 تا 60 لاکھ روپئے میں مکان خریدنا ممکن نہیں ہے ۔ اگر کوئی مکان کی خریدی کرنا چاہے تو انہیں گچی باولی ، کونڈا پور ، مادھا پور اور دوسرے مقامات پر کم از کم ایک کروڑ روپئے ادا کرنے ہوں گے ‘ ۔ مدھو سدن ریڈی ، ایم ڈی وویلٹن رئیٹلی کے مطابق گچی باولی کے قریب کے علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کی وجہ گذشتہ 3 تا 4 سال میں زمین کی قیمتوں میں ہوا اضافہ ہے ۔ نیز تعمیراتی میٹریل جیسے اسٹیل سمنٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ مکانات کی قیمت میں اضافہ ہوا ۔۔