گچی باؤلی ہاسپٹل میں بے قاعدگیوں کی شکایت :ششی دھر ریڈی

   

حیدرآباد: کانگریس پارٹی کی کووڈ ٹاسک فورس کے صدرنشین ایم ششی دھر ریڈی نے وزیر صحت ای راجندر کو مکتوب راونہ کرتے ہوئے گچی باؤلی میں واقع تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس کی کارکردگی بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ کے بارے میں مختلف شکایات مل رہی ہیں اور اخبارات نے ڈاکٹرس کی نااہلی اور تساہل سے متعلق خبریں شائع ہوئی ہیں۔ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ششی دھر ریڈی نے مختلف مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹمس میں مریضوں کی دیکھ بھال حتیٰ کہ کمرہ کی صفائی کے لئے اسٹاف کی جانب سے علحدہ رقم کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ 500 تا 2000 روپئے ڈیجیٹل پیمنٹ کے ذریعہ ادا کرنے پر اصرار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاسپٹل میں کینٹین کی غذا انتہائی ناقص ہیں اور عوام باہر سے غذا حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اسٹاف کی جانب سے بیرونی غذا کے حصول پر پابندی افسوسناک ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نامپلی سے گچی باؤلی تک مریض کی منتقلی کیلئے 15,000 روپئے وصول کرنے کی شکایت ملی ہیں۔ اس کے علاوہ بستر کی دستیابی تک ایمبولنس میں انتظار کرنے کیلئے اضافی 4000 روپئے وصول کئے گئے۔ ٹمس میں ڈاکٹرس کے علاوہ دیگر اسٹاف کے بارے میں کئی شکایات موصول رہی ہیں۔ کورونا سے فوت ہونے والے افراد کی نعشوں کو غیر ذمہ داری کے ساتھ رکھا جارہا ہے حالانکہ ان کا تحفظ حکام کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت نے گزشتہ سال بہتر سہولتوں کیلئے ٹمس کا قیام عمل میں لایا تھا۔
لیکن یہ ادارہ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو ہراسانی اور زائد رقم کی وصولی کا مرکز بن چکا ہے ۔ ششی دھر ریڈی نے وزیر صحت سے اپیل کی کہ ٹمس کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس منعقد کریں۔