انتہائی کم وقت میں دواخانہ کی تکمیل کے باوجود افتتاح سے گریز کے بعد مختلف قیاس آرائیوں کا آغاز
حیدرآباد۔11مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے افتتاح کے لئے نجومی کے وقت کا انتظار ہے کیا بہتر مہورت کی تلاش ہے یہ بات واضح نہیں ہو رہی ہے۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤجو ہر کام پنڈتوں سے مشاورت اور ان کے بتائے گئے وقت پر کرنے مشہور ہیں اسی لئے یہ گمان کیا جا رہاہے کہ ٹمس کی 16دن میں تیاری اور ملک کے پہلے منفرد کورونا وائرس کے دواخانہ کے اعزاز کے اعلانات کے بعد اب تک ایک مریض کو بھی اس دواخانہ میں شریک نہیں کیا گیا۔حکومت کی جانب سے خوب زور و شور کے ساتھ تیار کئے گئے گچی باؤلی اسٹیڈیم کے پاس دواخانہ کو تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کا نام دینے کے بعد یہ دعوی کیا گیا کہ سب سے کم وقت میں حکومت نے یہ دواخانہ مکمل کیا اور 10منزلہ اس دواخانہ میں 48ڈاکٹرس کے تقرر کے علاوہ نرسوں کے تعیناتی اور 4لیاب ٹیکنیشن کے تقررات کا عمل مکمل کئے جانے کا دعوی بھی جا رہا ہے ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق حکومت نے عارضی طور پر تیار اس دواخانہ میں تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا کہ یہ دواخانہ مستقل تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے طور پر خدمات انجام دے گا ۔ اس اعلان کو کافی مدت گذرجانے کے باوجود بھی اس دواخانہ کی تعمیر کا آغاز نہیں کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق گچی باؤلی اسٹیڈیم سے متصل اس عمارت میں تعمیر دواخانہ میں 50 وینٹیلٹرس بھی پہنچ چکے ہیں اور بیشتر آلات نصب کئے جاچکے ہیں لیکن عمارت کے سیوریج نظام کو بہتر بنانے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور کہا جارہاہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک حکومت کی جانب سے تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے سیوریج نظام کو درست کرنے کے عمل کو مکمل کریگی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ ملکا جگری مسٹر ریونت ریڈی نے اس دواخانہ کے سیوریج نظام کو بہتر بنانے اپنے فنڈ سے 50لاکھ روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے دواخانہ میں علاج کے آغاز کے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا جا رہاہے ۔ کہا جا رہاہے کہ 3جون کے بعد دواخانہ کا افتتاح کیا جائیگا ۔ واضح رہے کہ 2جون کو تلنگانہ کا یوم تاسیس ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا کہ 3جون کے بعد دواخانہ کا افتتاح انجام دیا جائے ۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہناہے کہ حکومت اگر اندرون ایک ہفتہ دواخانہ میں علاج کے آغاز کی ہدایت دیتی ہے تو بھی ممکن ہے لیکن کوئی اس کی وجہ بتانے سے قاصر ہے کہ کیوں دواخانہ کے آغاز کیلئے اجازت نہیں دی جا رہی ہے جبکہ سیوریج کے جس کام کیلئے تاخیر کا حوالہ دیا جا رہاہے اس کام کی تکمیل کے سلسلہ میں کنٹراکٹر کا کہناہے کہ اندرون 2ہفتہ ان کاموں کی تکمیل کردی جائے گی ۔
