لکھنؤ: گڈو مسلم جس پر 24 فروری کو وکیل امیش پال اور ان کے دو پولیس گارڈز کو قتل کرنے کا الزام ہے، دو ماہ سے پولیس کی گرفت سے دور ہے۔ واقعے کے دوران گڈو کو کیمرے میں امیش پال پر دیسی بم پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔ حملے کے بعد اس کے بم پھینکنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اب اس کیس کی تفتیش کرنے والے افسران کا کہنا ہے کہ وہ گڈو مسلم کو گرفتار کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں۔ایک سینئر پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ ذرائع نے ہمیں بتایا ہے کہ گڈو مسلم اپنی شکل اور بھیس بدلنے میں ماہر ہے۔ہم نے داڑھی اور مونچھوں کے ساتھ مختلف بھیسوں میں اس کے خاکے تیار کیے ہیں۔ ہو سکتا ہے گڈو نے اپنا نام بھی بدل لیا ہو اور ہو سکتا ہے کہ وہ ہندو شناخت کے ساتھ اپنے ٹھکانے پر رہ رہا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مندر کے باہر بھکاری بن کر رہ رہا ہو، ہم تمام امکانات پر جانچ کر رہے ہیں۔پولیس حکام نے بتایا کہ امیش پال کو قتل کرنے کے بعد گڈو مسلم جھانسی اور پھر میرٹھ فرار ہو گیا تھا۔
