مارکٹ میں موجود مسجد کو خطرہ، مسلمانوں میں تشویش کی لہر
حیدرآباد۔/3 ستمبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے گڈی انارم فروٹ مارکٹ کتہ پیٹ کی دوسرے مقام کو منتقلی کیلئے ریاستی کابینہ میں قرار داد منظور کئے جانے اور عنقریب اسے تخلیہ کرانے کی اطلاعات پر احاطہ مارکٹ میں موجود جامع مسجد کتہ پیٹ فروٹ مارکٹ کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور تاجرین و مقامی عوام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ 1989 میں قائم کی گئی گڈی انارم فروٹ مارکٹ میں تاجرین نے تقریباً 1200 مربع گز اراضی پر باضابطہ ایک شیڈ کی تعمیر کرتے ہوئے اس میں اب تک سینکڑوں افراد نماز ادا کررہے ہیں۔ اس مسجد میں بہترین سہولیات اور انتظامات کئے جاتے ہیں اور مقامی افراد کے علاوہ مارکٹ کے تاجرین بھی عبادت کیلئے آتے ہیں۔ برسوں پرانی مارکٹ کی اچانک منتقلی کیلئے سرگرم رول ادا کرنے والے وہاں کے رکن اسمبلی نے علاقہ کی ترقی اور سرکاری دواخانہ قائم کرنے کے بہانے تاجرین کو پریشان کردیا اور ایسے حالات پیدا کردیئے کہ مارکٹ کو مستقل طور پر وہاں سے منتقل کردیا جائے جس کے ساتھ ساتھ مسجد کا بھی وجود ختم ہوجائے۔ وہاں کے تاجرین اور مقامی افراد میں مارکٹ کی برخواستگی کی سرگرمیوں کے پیش نظر تشویش پائی جاتی ہے اور برسر اقتدار پارٹی کے مسلم قائدین اور دیگر افراد سے اس معاملہ میں مداخلت کے خواہاں ہیں۔ حالانکہ مارکٹ کی منتقلی کی سرگرمیوں کے پیش نظر قانونی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف اس مسجد کو آباد اور برقرار رکھنے کیلئے بھی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ مقامی عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ اس آباد مسجد کا وجود باقی رکھا جائے اور اس معاملہ میں تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ بھی موثر کارروائی کرے۔B