گڈی انارم فروٹ مارکٹ کو بند کرنے کا فیصلہ

   

سماجی فاصلہ کے احترام نہ کرنے کا بیان، رمضان المبارک میں میوے کیلئے مشکلات
حیدرآباد۔22اپریل(سیاست نیوز) شہر میں پھل پہنچانے والی مارکٹس بند کردی جائیں گی!گذشتہ یوم متعلقہ عہدیداروں کی جانب سے گڈی انارم مارکٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 23اپریل سے بازار کو بند کیا جانے والا ہے ۔مارکٹ کے تاجرین کا کہنا ہے کہ محکمہ کی جانب سے مارکٹ کی شہر سے منتقلی کے لئے یہ اقدامات کئے جا رہے ہیں کیونکہ حکومت نے اس مارکٹ کو شہر کے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور لاک ڈاؤن کے دوران اس عمل کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ مارکٹ کمیٹی صدرنشین کا کہناہے کہ مارکٹ میں سماجی رابطہ کو یقینی بنانے میں ہونے والی ناکامی کے سبب مارکٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آئندہ دو یوم میں ماہ رمضان المبارک کی آمد ہے اور شہر میں پھلوں کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن ایسے وقت پر مارکٹ کو بند کرنے کے فیصلہ سے کئی شبہات پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ مارکٹ کو بند کرتے ہوئے اسے منتقل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔مسٹر راما نرسمہا گوڑ صدرنشین مارکٹ کمیٹی نے بتایا کہ گڈی انارم مارکٹ میں روزانہ 17تا18 اقسام کے پھل آتے ہیں جہاں سے ٹھیلہ بنڈی راں پھل خریدتے ہوئے شہر میں لیجا کر فروخت کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان پھلوں میں آم‘ جام‘ سنگترہ‘ انگور‘ کیوی‘ پپئی‘ موز‘سیب اور دیگر پھل شامل ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ شہر میں موجود اس مارکٹ میں کئی اقسام کے آم لاریوں کے ذریعہ پہنچتے ہیں اور ٹھوک تاجرین کی جانب سے ہراج کے علاوہ ٹھیلہ بنڈی پر فروخت کرنے والے خریداروں کے ہجوم کے سبب صورتحال پر قابو پانا دشوار ہوتا جا رہاہے اسی لئے حکومت اور عہدیداروں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ 23 اپریل سے پھلوں کے اس اہم مارکٹ کو بند کردیا جائے ۔جبکہ 24یا25 اپریل سے ماہ رمضان المبارک کا آغاز متوقع ہے اور شہر حیدرآباد میں ماہ رمضان المبار ک کے دوران پھلوں کی فروخت اور طلب میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔حکومت کی جانب سے مارکٹ کو بند کرنے کا فیصلہ شہریوں کے لئے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اسی لئے حکومت کو مارکٹ میں سماجی دوری کو برقرار رکھنے کے اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے مارکٹ کو کھلا رکھنے کے اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس مارکٹ سے شہریوں اور ٹھیلہ بنڈی رانوں دونوں کا فائدہ ہے۔