سینکڑوں ہندو مسلم افراد کی شرکت، بھاری خرچ کے بجائے غریبوں کی امداد کا مشورہ
حیدرآباد ۔11 ۔ مارچ (سیاست نیوز) رمضان المبارک کے دوران نامپلی اسمبلی حلقہ میں روزانہ کسی ایک علاقہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور انچارج نامپلی محمد فیروز خاں کی جانب سے افطار اور طعام کے انتظامات کا سلسلہ جاری ہے ۔ فیروز خاں نے رمضان المبارک کے 30 ایام میں عوام کے ساتھ روزہ کشائی اور طعام کا فیصلہ کیا اور وہ 50 ہزار افراد کو افطار اور طعام کے انتظامات کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ فیروز خاں نے گڈی ملکا پور میں 1500 افراد کے لئے دعوت افطار کا اہتمام کیا جس میں مقامی غیر مسلم افراد نے شرکت کرتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد کا مظاہرہ پیش کیا۔ فیروز خاں نے کہا کہ وہ دعوت افطار کا اہتمام خالص اللہ کی خوشنودی کے جذبہ کے تحت کر رہے ہیں اور وہ کسی نمود و نمائش اور دکھاوے سے دور ہیں۔ انہوں نے گڈی ملکا پور میں روزہ داروں کے ساتھ روزہ کشائی کی اور نماز مغرب کے بعد طعام میں شریک رہے ۔ اس موقع پر علاقہ کے غریب خاندانوں میں غذا تقسیم کی گئی ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فیروز خاں نے بعض سیاسی قائدین اور دولت مند افراد کی جانب سے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے دعوت افطار کے اہتمام پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ چند ایک قائدین کو خوش کرنے کیلئے لاکھوں روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ روزہ خالص عبادت ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے رکھتا ہے ۔ ایسی عبادت کو سیاسی فائدہ کے لئے استعمال کرنا غیر شرعی ہے۔ فیروز حاں نے تجویز پیش کی کہ دعوت افطار پر لاکھوں خرچ کرنے کے بجائے اپنے اپنے علاقوں میں موجود غریب اور مستحق خاندانوں کی مدد کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی غریب خاندان ایسے ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ دولتمند افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقیقی مستحق غریب خاندانوں کی مدد کریں تاکہ ان کے قرض کی ادائیگی ہو اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کی تکمیل ہو۔ انہوں نے کہا کہ 30 دن تک وہ اپنے ذاتی خرچ سے دعوت افطار و طعام کا انتظام کر رہے ہیں اور انہوں نے کانگریس پارٹی یا کانگریس قائدین کو اس متبرک عبادت میں شامل نہیں کیا ہے۔ مقامی مسلم اور غیر مسلم افراد نے فیروز خاں کے جذبہ کی ستائش کی۔1