گڑگاوں ‘ نماز کا مسئلہ حل کیا جائے

   

ہریانہ کے گڑگاوں میں ہر جمعہ کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے وقت مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں۔ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ نمازیوں کے عین سامنے پہونچ کر مذہبی نعرے لگاتے ہوئے انہیںمشتعل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ دائیں جانب سے فرقہ پرست اور فاشسٹ تنظیموں کے ارکان کھلے عام نفرت پیدا کرنے کا کام کر رہے ہیں اور عملا غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں۔ ہر جمعہ کو یہ مسئلہ پیدا کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے تاہم مقامی پولیس اور انتظامیہ اس معاملے میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے اور ایسا تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ پولیس ان فسادیوں کے خلاف کچھ بھی کرنے کی بجائے انہیں نظر انداز کر رہی ہے ۔ ان کے خلاف مقدمات درج کرنے اور گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی بجائے حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ پولیس بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں تساہل سے کام لے رہی ہے اور شائد یہی وجہ ہے جس کے نتیجہ میں ان فرقہ پرست اور شر انگاز عناصر کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ ابتداء سے ان پر قابو پانے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اب یہ لوگ ہر جمعہ کو عین نماز جعمہ کے وقت پہونچ جاتے ہیں اور مسلمانوں کو نفرت کا شکار بناتے ہیں۔ ان کی نماز میں خلل پیدا کرتے ہیں۔ اپنے مذہبی نعرے لگاتے ہیں اور بعض اوقات تو مسلم نوجوانوں کو یہاں نماز کی ادائیگی کیلئے پہونچنے بھی روکا جاتا ہے ۔ یہ سارا کچھ پولیس کی موجودگی میں ہوتا ہے اور پولیس عملا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہوتی ہے ۔ پولیس کچھ بھی کرنے کی بجائے صرف وقت گذاری کرتی ہے ۔ فسادیوں اور شر انگیز عناصر کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے ان کے حوصلے مسلسل بلند ہوتے جا رہے ہیں جو اچھی علامت نہیں ہے ۔ نماز میں رکاوٹ پیدا کرنے والے عناصر وہ ہیں جنہیں برسر اقتدار جماعت کی ہم قبیل تنظیموں کی تائید و حمایت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس ان کے خلاف حرکت میں نہیں آ رہی ہے ۔ شائد پولیس کو اس تعلق سے خاموشی اختیار کرنے کی ہدایات دی جاچکی ہیں۔ تاہم یہ تغافل یا جانبداری سماج کیلئے اچھی علامت نہیں ہے اور اس سے امن و سکون متاثر ہو رہا ہے ۔
گڑگاوں میں جس کھلی جگہ پر مسلمانوں کی جانب سے نماز ادا کی جاتی ہے وہ ایک پولیس اسٹیشن سے قریب واقع ہے ۔ اس کے باوجود پولیس کا وہاں خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا جاتا اور فرقہ پرستوں کو اپنے عزائم کی تکمیل کا موقع مل جاتا ہے ۔ پولیس کا عملہ وہاں خاطر خواہ تعداد میں موجود بھی نہیں ہوتا ہے اور صرف نیم دلی سے فرقہ پرستوں کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کامیاب نہیں ہوتی ۔ نماز کو روکنے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ کچھ افراد نے تو اب عمدا جمعہ کے موقع پر اس مقام پر اپنے ٹرکس اور گاڑیاںپارک کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی گاڑیاں پارک کرنے کیلئے کہیںاور جگہ دستیاب نہیں ہے ۔ یہ سارا کچھ محض اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ وہاں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا جائے ۔ یہ جو عزائم ہیں اس کے صرف سیاسی مقاصد ہیں۔ سیاسی مقصد براری کیلئے مذہبی منافرت پیدا کرنا آج کل وطیرہ بن گیا ہے ۔ جہاں کہیں حکومتیں اپنی ناکامیوں کو پوشیدہ رکھنا چاہتی ہیں وہیں فرقہ وارانہ ماحول کو پراگندہ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے ۔ اگر حکومتوں کی ایما پر ایسی حرکتیں نہ بھی کی جا رہی ہوں تو حکومت خاموشی کے ساتھ ان کی حوصلہ افزائی ضرور کرتی ہے تاکہ عوام کا ذہن بٹا رہے اور اس کی ناکامیوں اور خامیوں کی جانب عوام کی توجہ مبذول ہونے نہ پائے ۔ حکومت اس طرح کے منفی رجحان کے ذریعہ اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کرنا چاہتی ہے جو ملک کی ہمہ جہتی روایات کے یکسر مغائر ہے ۔
ہر جمعہ کو اس طرح کا مسئلہ پیدا کیا جا رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی انتظامیہ دونوں طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ مشاورت کریں۔ انہیں ایک رائے بنانے کی کوشش کی جائے ۔ فرقہ پرست طاقتوںکو صورتحال کے استحصال کا موقع فراہم کئے بغیر حالات کو بہتر بنانے اور دونوں فرقوں کے مابین خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی جائے ۔ جو عناصر امن کو درہم برہم کرتے ہوئے منافرت پھیلا رہے ہیں ان کے خلاف ضابطہ کی تکمیل کیلئے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں سخت کارروائی کی جائے تا کہ ایسی سوچ رکھنے والے دوسرے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو اور کسی کو صورتحال کے استحصال کا موقع ملنے نہ پائے۔