گھروں سے کپڑوں کی تجارت صحت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے

   

کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے سخت ترین پابندیوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنا معیوب

حیدرآباد۔3مئی(سیاست نیوز)گھر سے کاروبار اور کپڑوں کی فروخت آپ کو مشکلات میں مبتلاء کرسکتی ہے اور اس طرح کی سرگرمیاں حالات کو معمول پر لانے میں رکاوٹ کے علاوہ ان لوگوں کے لئے منافع کا سبب بنیں گی جو آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے آپ کو سامان مہیا کروا رہے ہیں اور آپ کے گھروں کو تجارتی اداروں میں تبدیل کرتے ہوئے آپ کے گھروں میں لوگوں کی آمدو رفت کے ذریعہ آپ کے اپنے خاندان والوں کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میں کپڑوں اور جوتوں کے ٹھوک تاجرین کی جانب سے ادھار سامان سربراہ کرتے ہوئے چلر فروش تاجرین کو گھروں سے تجارت کا آغاز کرنے کیلئے اکسایا جارہا ہے کہ اور کہا جا رہاہے کہ وہ صرف اپنے محلہ اور جاننے والوں کے درمیان عید کیلئے ان سامان کو فروخت کرتے ہوئے آمدنی حاصل کرسکتے ہیں لیکن جو ٹھوک تاجرین اپنے سیلز مین یا جاننے والوں کو سامان کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل ان کے ساتھ ہمدردی نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہیں مشکلات میں مبتلاء کرنے کے مرتکب بن رہے ہیںکیونکہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی وباء سے محفوظ رہنے کیلئے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے حالات پیدا کئے گئے ہیں اور ان حالات میں گاہکوںکی صورت میں کسی کو اپنے گھر بلانا ان کے لئے صحت کے اعتبار سے انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے اورعلاوہ ازیں گھروں سے اس طرح کی تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور ان سرگرمیوں کے لئے مقدمات درج کئے جاسکتے ہیں ۔ جو تاجرین یہ سامان بالخصوص کپڑے ‘ جوتے اور چپل سربراہ کرتے ہوئے فروخت کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں وہ اپنے حقیر مفاد کیلئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ کروڑہا روپئے کی خریداری ان ٹھوک تاجرین کی جانب سے کرلی گئی ہے

اور اب انیہں ان کی جانب سے خریدے گئے سامان کی فروخت کے مسائل پیدا ہونے لگے ہیں جس کے سبب وہ کسی بھی حالت میں اپنی خریداری کو چلرفروش تاجرین پر لاد کرخود آزاد ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان حالات میں جب کیہ سب کچھ بند ہے تو ان حالات میں گھریلو تجارتی سرگرمیوں کے ذریعہ کچھ کمائی ممکن ہوسکتی ہے وہ اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ وہ کوئی تجارت نہیں کر رہے ہیں بلکہ ان لوگوں کا سامان فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو یہ سامان خریدتے ہوئے مشکلات میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ دونوں شہروں کے مسلم علاقو ںمیں عید الفطر کے پیش نظر غیر مسلم تاجرین کی جانب سے مسلم سیلز مین اور چلر فروش تاجرین سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے انہیں سامان فراہم کیا جا رہاہے تاکہ وہ اس سامان کو فروخت کرسکیں اور عید الفطر کے پیش نظر ان کی یہ ہمدردی معصوم شہریوں کیلئے نعمت نظر آرہی ہے جبکہ درحقیقت جاریہ رمضان المبارک کے دوران ہونے والی معاشی و تجارتی نقصانات کے علاوہ سامان کے فروخت نہ ہونے سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کیلئے کی جانے والی اس ہمدردی کا مقصد ٹھوک تاجرین کا ایک ہی ہے اور وہ ہے انہیں ہونے والی نقصان میں کچھ حد تک کمی ہو اور ان کا وہ سامان جو لاک ڈاؤن کے سبب رک گیا ہے کسی بھی صورت اس کی فروخت کو یقینی بنایا جاسکے۔ گھروں سے کی جانے والی تجارت کو اپنے علاقو ںمیں روکنا اور عید سادگی سے منانے کے علاوہ عید الفطر کے موقع پر دوسروں کی خوشیوں کا لحاظ کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کیونکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مساجد اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے تو گھروں سے تجارتی سرگرمیوں کو انجام دینا انتہائی معیوب بات ہے اسی لئے اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بجائے ان لوگوں کو اس بات کا احساس کروایا جانا چاہئے کہ ایک عید پر مسلمانو ںکی جانب سے خریدی نہیں کی جاتی ہے تو ملک کی معیشت کی حالت کیا ہوگی اور مسلمان اس ملک کی معیشت کے کے استحکام کیلئے کس حد تک ضروری ہے ۔ وہ لوگ جو مسلم ٹھیلہ بنڈی رانوں کو غیر مسلم علاقوں میں تجارت کرنے سے روک رہے ہیں انہیں بھی اس بات کا احساس کروایا جانا ناگزیر ہے کہ مسلمان بہ حیثیت تاجر اور گاہک معیشت کے لئے کتنا ضرور ی ہے ۔