گھروں میں دینی نظام پر عمل آوری اور اولاد کی تربیت والدین کی ذمہ داری

   

Ferty9 Clinic

پر آشوب دور میں لڑکیوں کو ارتداد سے بچانا ضروری
ایم ایس حفظ اکیڈیمی کی تقریب دستار بندی ، حضرت مولانا اسجد قاسمی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : گھروں کے ماحول میں دین ضروری ہے اور گھروں میں دینی نظام قائم کرنا اس پر خود اور اولاد کو عمل کروانا والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے ۔ اپنی اور اپنے سماج کی اصلاح ، اولاد کی تعلیم و تربیت اور ذہن سازی کے حوالے سے ہمیں قرآن مجید سے تعلق کو مضبوط رکھنا ہوگا ورنہ ارتداد کے دروازے کھل جائیں گے ۔ آج کے اس پر آشوب دور میں خاص طور پر اپنی لڑکیوں کو ایمان ، عصمت ، شرم و حیا ، محبت ، اللہ کی کتاب قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی اہمیت سے واقف کروانا ہوگا ۔ ان کے ذہنوں میں یہ باتیں بٹھانی ہوں گی کہ بے حیائی بے پردگی بے شرمی کی راہ تباہی و بربادی کی راہ ہے ۔ یہ راہ تمہیں ارتداد ، کفر و شرک کی طرف لے جاتی ہے ۔ ان زرین خیالات کا اظہار ایم ایس حفظ اکیڈیمی کی 5 ویں تقریب دستار بندی سے خصوصی خطاب میں مہمان خصوصی حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اسجد ندوی قاسمی صاحب شیخ الحدیث جامعہ امدادیہ مراد آباد نے کیا ۔ ملک کے جشن یوم آزادی 15 اگست کے پر مسرت موقع پر میٹرو کنونشن آرام گھر چوراہا ایرپورٹ روڈ پر منعقدہ اس تقریب دستار بندی کی صدارت حضرت مولانا محمد بن عبدالرحیم بانعیم صاحب نائب صدر مجلس علمیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش نے کی جب کہ حضرت مولانا احمد عبداللہ طیب قاسمی صاحب ناظم اشاعت الخیر نے بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ تقریب دستار بندی میں ان 111 طلباء وطالبات کی دستار بندی کی گئی جنہوں نے ایم ایس حفظ اکیڈیمی سے حفظ و قرآن کی تکمیل کی جن میں 38 طالبات اور 73 طلباء شامل ہیں ۔ واضح رہے کہ ایم ایس حفظ اکیڈیمی سے اب تک 300 طلباء وطالبات حفظ قرآن مجید کی تکمیل کرچکے ہیں اور ان میں سے کئی ایک ایم بی بی ایس اور انجینئرنگ و دیگر پروفیشنل کورس میں داخلہ پاچکے ہیں ۔ اپنے خطاب میں ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے چیرمین محمد لطیف خاں نے کہا کہ جشن آزادی کے موقع پر اس بابرکت تقریب کا اہتمام ہمارے ملک کی جنگ آزادی میں علماء کی قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا اور ہر سال 15 اگست کو ہی حفاظ کی دستار بندی تقریب منعقد کی جائے گی ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حفظ اکیڈیمی کے 8 برسوں میں 300 طلباء وطالبات نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی یہ بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ ہدف کا تعین سب سے اہم ہوتا ہے ہم نے ہدف کا تعین کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی اور ایم ایس نے اپنا جو ویژن 2036 بنایا ہے اس کے تحت 5000 حفاظ کی تیاری کا ہدف ہے ۔ ان شااللہ یہ ہدف بھی اسی طرح پورا ہوگا جس طرح ہم نے 1991 میں ایم ایس کے قیام کے وقت ہدف مقرر کیا تھا کہ ایم ایس کی 100 برانچس ہوں گی اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے برانچس کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے ۔ اس موقع پر سینئیر ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد معظم حسین ، منیجنگ ڈائرکٹر جناب انور احمد ، وائس چیرپرسن محترمہ نزہت صوفی خان ، حفظ اکیڈیمی کے نگراں سید نعیم قاسمی ، وائس پرنسپل حافظ مسعود و دیگر موجود تھے ۔ والدین اور سرپرستوں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں مولانا احمد عبداللہ طیب قاسمی نے دعا کی ۔۔