گھروں میں شادی بیاہ و دیگر تقاریب کے ہجوم پر خفیہ نظر

,

   

حکومت سے خصوصی ٹیمیں تشکیل، پچاس سے زائد افراد پر سخت کارروائی، شادی خانوں کو بکنگ نہ کرنے کی ہدایت

حیدرآباد۔31مئی (سیاست نیوز) ماہ رمضان کے فوری بعد شہر حیدرآباد میں شادیوں کا موسم شروع ہوا کرتا تھا لیکن اب جبکہ لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے تو شادیوں کی بڑی تقاریب پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد کے کئی علاقو ںمیں گھروں میں ہی بڑی تقاریب کے انعقاد کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان تقاریب کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے مشاہدہ کے بعد کسی بھی گھر میں بھی کوئی بڑی تقریب یا لوگوں کے جمع ہونے کی اطلاع پربھی کاروائی کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ شہر حیدرآباد میں سالگرہ‘ تقریب‘ منگنی کی تقریب کے علاوہ ایک شادی کی تقریب کے شرکاء کو کورونا وائرس کی مصدقہ اطلاعات کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے خفیہ ٹیم کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس طرح کی تقاریب پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے کیونکہ 50 افراد کی تقریب کے نام پر منعقد کی جانے والی تقریب میں شریک رہنے والوں میں نصف سے زائد کورونا وائرس سے متاثر پائے جانے لگے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے اسی لئے حکومت نے کسی بھی محلہ یا علاقہ میں منعقد ہونے والی 50 افراد سے زیادہ کی تقاریب کی صورت میں سخت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شادی خانوں کے ذمہ داروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں شادی خانہ کی بکنگ نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے پر ان کے خلاف سخت کاروائی اور شادی خانہ کو مہر بند کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ 5ویں مرحلہ کے لاک ڈاؤن کے جو شرائط ہیں ان میں اب بھی کسی بھی اجتماعی تقریب اور ہجوم جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ گھروں میں کی جانے والی شادیوں پر بھی خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جن گھروں میں شادی ہے اس کی تفصیلات حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہو رہی ہے ۔شادی خانو ںمیں تقاریب کے انعقاد کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے فوری طور پر اجازت دیئے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور 50 افراد کے ساتھ شادی کی تقریب کے متعلق بھی یہ وضاحت ہے کہ یہ تقریب گھر کی حد تک منعقد کی جائے ۔