کورونا پھیلاؤ کو روکنے حکومت کا اقدام، ڈرائیورس کو خدمات کی مشروط اجازت
حیدرآباد۔/9مئی، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں کورونا وائرس کے واقعات میں روز افزوں اضافہ کو دیکھتے ہوئے محکمہ بلدی نظم و نسق نے تمام ریسیڈنشیل ویلفیر اسوسی ایشنوں، اپارٹمنٹس کے مالکین، گیٹیڈ کمیونٹیز اور مکان مالکین کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 مئی تک گھریلو کام کاج کیلئے خادماؤں اور ملازمین کو اجازت نہ دیں۔ کورونا وائرس کے واقعات میں کمی نہ ہونے کے سبب محکمہ یہ فیصلہ کیا کیونکہ اکثر و بیشتر گھریلو خادمائیں مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر کام کرتی ہیں لہذا اُن سے کورونا پھیلنے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ محکمہ نے تاہم ڈرائیورس کو خدمات انجام دینے کی اجازت دی ہے اور وہ کامن ایریا میں رُک سکتے ہیں۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں نے بتایا کہ مختلف سوسائٹیوں اور کالونیوں کی جانب سے وضاحت طلب کی جارہی ہے کہ گھریلو خادماؤں اور ملازمین کو آیا خدمات پر واپس طلب کیا جاسکتا ہے۔ پرنسپال سکریٹری میونسپل ایڈمنسٹریشن اروند کمار نے بتایا کہ 15 مئی کے بعد اس مسئلہ پر حکومت کوئی فیصلہ کرے گی۔ کورونا کے پھیلاؤ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد خادماؤں اور ملازمین کے کام کی اجازت کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے کہا کہ نہ صرف ملازمین و خادماؤں بلکہ عوام کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
خادمائیں بیک وقت کئی گھروں میں کام کرتی ہیں اور وہ کئی افراد سے ربط میں آتی ہیں اگر کوئی ایک وائرس کا شکار ہوجائے تو کئی گھر باآسانی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ملازمین اور خادماؤں کی خدمات پر 15 مئی تک پابندی حیدرآباد، رنگاریڈی، ملکاجگری ۔ میڑچل اضلاع میں نافذ رہے گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بہت زیادہ ضرورت کی صورت میں متعلقہ زونل کمشنر جی ایچ ایم سی سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ میونسپل کمشنرس اور زونل کمشنرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس صورتحال پر نظر رکھیں اور انہیں این او سی کی اجرائی کا اختیار دیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے کئی علاقوں میں عوام نے اپنے طور پر گھریلو ملازمین اور خادماؤں کو خدمات سے روک دیا ہے۔
