گھریلو پکوان گیس صارفین کو پھر ایک مرتبہ مایوسی

   

کمرشیل گیس سلینڈر کی قیمت میں 83.50 روپئے کی کمی، فیصلے پر فوری عمل آوری
حیدرآباد ۔ یکم ؍ جون، ( سیاست نیوز) گھریلو پکوان گیس سلینڈر صارفین کو پھر ایک مرتبہ مایوسی ہوئی ہے۔ گذشتہ دو تین ماہ سے مرکزی حکومت تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے گیس سلینڈرس کی قیمتوں میں بتدریج کمی کررہی ہے تاہم گھریلو استعمال کے گیس سلینڈرس کی قیمتوں میں کمی نہیں کررہی ہے جبکہ گھریلو استعمال کیلئے ایل پی جی گیس سلینڈر کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں جو غریب اور متوسط طبقہ پر ماہانہ بہت بڑا اضافی بوجھ ہے مگر مرکزی حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے جس کا اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہاہے ۔ پکوان گس سلینڈر کی قیمت 1200 روپئے تک پہنچ گئی ہے جس سے عوام کو کافی مشکلات و دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور دیہی علاقوں میں عوام پکوان کیلئے دوبارہ لکڑی کے چولہے کا سہارا لینے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ دریں اثناء مرکزی حکومت نے 19 کیلو کمرشیل گیس کی قیمت میں فی سلینڈر 83.50 روپئے کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دہلی میں غیر گھریلو گیس فی سلینڈر کی قیمت 1773 روپئے ہوگئی ۔ آئیل کمپنیوں نے کم کی گئی قیمت فوری طور پر نافذ العمل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ کرناٹک کے انتخابات میں عوام نے ووٹ دینے سے قبل پکوان گیس سلینڈر کو سلام کرتے ہوئے ووٹ دیا اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ پر بی جے پی کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ باوجود اس کے مرکزی حکومت نے عوامی ناراضگی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ن