گھریلو پکوان گیس کی قیمتوں میں 25 روپئے کا اضافہ

   

حیدرآباد میںفی سلینڈر 887 روپئے ، چھ ماہ میں140 روپئے کا اضافہ کردیا گیا
حیدرآباد۔ ایک طرف اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں تو دوسری طرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئی ہیں۔ غریب اور متوسط طبقات ابھی اس بوجھ سے سنبھل ہی نہیں پائے تھے کہ پکوان گیس کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ۔ گزشتہ چند دنوں سے پکوان گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پٹرولیم کمپنیوں نے پھر ایک مرتبہ گھریلو پکوان گیس پر فی سلینڈر 25 روپئے کا اضافہ کیا ہے۔ اس طرح کمرشیل پکوان گیس پر فی سلینڈر 84 روپئے کا اضافہ کردیا ہے۔ ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر نے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ زیادہ غریب اور متوسط طبقات کے افراد پریشان ہیں، ملک کے مختلف مقامات پر لاک ڈاؤن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی اور اشیائے ضروریہ کی عدم سربراہی کا بہانہ بناتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ اضافہ ہورہا ہے ۔ لاک ڈاؤن اور کورونا کی وجہ سے لاکھوں عوام بیروزگار ہوئے اور ان کے ماہانہ گھریلو اخراجات میں اچانک 20 تا30 فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس کے بعد گھریلو پکوان گیس پر فی سلینڈر 25 روپئے کا اضافہ مزید مالی بوجھ ہے۔ پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد دہلی میں 14.2 کیلو پکوان گیس کی قیمت فی سلینڈر 834.50 روپئے ہوگئی ۔ ممبئی میں بھی یہی قیمت ہے۔ کولکتہ میں 835.50 روپئے، چینائی میں 850.50 روپئے ہوگئی ۔ 19 کیلو کمرشیل گیس کی قیمت دہلی میں 1,550 ہوگئی۔ حیدرآباد میں گھریلو پکوان گیس فی سلینڈر کی قیمت 887 اور کمرشیل پکوان گیس فی سلینڈر کی قیمت 1768 روپئے تک پہنچ گئی ۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران گھریلو پکوان گیس کی قیمتوں میں فی سلینڈر 140 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال 4 فبروری کو پہلی مرتبہ گھریلو پکوان گیس کی قیمت میں 25 روپئے کا اضافہ ہوا ہے۔ اسکے بعد 15 فروری کو 50روپئے اور 25 فبروری کو 25 روپئے کا اضافہ ہوا تھا۔ ماہ فروری میں پکوان گیس پر فی سلینڈر100 روپئے کا اضافہ ہواتھا۔ بعد یکم مارچ کو پکوان گیس پر پھر 25 روپئے کا اضافہ ہوا۔ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی پر یکم اپریل کو گھریلو پکوان گیس پر فی سلینڈر 10 روپئے کمی کی گئی تھی۔