حیدرآباد۔گھر کی تعمیر یاکرائے پرگھر لینے کے بعد اس کی سجاوٹ کی فکر آپ کے ذہن پر سوار ہوجاتی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پہلے بیڈروم کی سیٹنگ کی جائے یا پھر لیونگ روم اور ڈرائنگ روم کی سجاوٹ پر دھیان دیا جائے۔ غرض یہ کہ گھر کی سجاوٹ کے دوران ایک ایک چیز کو اس کے مقام پررکھتے وقت آپ بڑے پْرجوش ہوتے ہیں۔ دیواروں پر ہوئے رنگ و روغن کے مطابق آپ کو نئے یا پرانے فرنیچر کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تاہم میگزین یا انٹرنیٹ پر موجود تصاویرکے ذریعے گھر کی سجاوٹ کے حوالے سے آپ کو مدد مل سکتی ہے۔ اگرآپ پہلی بار اپنے گھر کی سجاوٹ کرنے جارہے ہیں تو آپ کو چار پانچ پہلوئوں پر بھرپور ریاضت کی ضرورت ہوگی۔
فرنیچر:فرنیچر کی خریداری کرتے وقت جگہ کے حساب سے اس کی سجاوٹ کو ذہن میں رکھنا ہوتا ہے۔ گھر میں فرنیچر سجانے کے دوران بس یہی خیال ہوتا ہے کہ وہ ایک بھرپور تاثر پیش کرے۔ ڈرائنگ روم کی بات کریں تو اکثر لوگ ایک دیوار کے ساتھ صوفہ لگادیتے ہیں اور اس کے دونوں اطراف یا پھر اس کے سامنے دو سنگل صوفے یا دو کرسیاں رکھ دیتے ہیں۔ ڈرائنگ روم میں فرنیچر ایسے رکھا جانا چاہیے جیسے انگوٹھی میں نگینہ فٹ ہوتا ہے۔ دراصل فرنیچر کوسجاتے کرنے کے لیے تھوڑی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی سجاوٹ میں سب سے اہم نقطہ اس کا مرکز ہوتاہے، اس کے بعد سٹنگ ایریا کا انتخاب اور فرنیچر کے درمیان آمدورفت کی جگہ چھوڑنا۔ اس کے علاوہ آپ لیونگ روم اور بیڈروم میں ہوئے رنگوں کی مناسبت سے اپنی ضرورت کا خوبصورت فرنیچر سجائیں اور اگر یہ اسٹوریج کی اضافی سہولت مہیا کرے تو اور بھی اچھی بات ہے۔
قالین:گھر کے مختلف کمروں میں قالین بچھانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ قالین کی کہاں ضرورت ہے اور آیا اسے پورے کمرے میں بچھایا جائے یا محض قالین کا ایک ٹکڑا ڈال دیا جائے۔ آپ کو قالین کی خریداری کرتے وقت اس کے معیار اور ڈیزائن کے ساتھ پائیداری کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کمرے کا سائز اچھی طرح معلوم کرلیں تاکہ آپ اسی حساب سے قالین خرید سکیں۔ اگر کسی وجہ سے قالین کمرے کے سائز سے چھوٹا ہے تو پھر اسے ایسے معنی خیزانداز میں بچھائیں کہ کمرے کی دلکشی متاثر نہ ہو بلکہ وہ کمرے کی سجاوٹ کا حصہ بن جائے۔ قالین کو تمام فرنیچر کے نیچے ہونا چاہیے اور اگر وال ٹو وال قالین نہ بچھایا گیا ہو تو پھر قالین اور دیواروں کے درمیان تقریباً 10سے20انچ کا فرق رکھا جائے۔(سلسلہ جاری)