یومیہ کم ٹسٹ کرتے ہوئے کورونا کے کیس گھٹنے کا دعویٰ ، صورتحال انتہائی سنگین
حیدرآباد :۔ ریاست بھر میں جاری گھر گھر فیور سروے میں سنسنی خیز انکشافات ہورہے ہیں تاحال 3.54 لاکھ لوگوں میں کورونا کے علامتوں کی نشاندہی ہونے کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا ہے ۔ محکمہ ہیلت کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جی سرینواس نے کہا کہ جن لوگوں میں علامتیں پائی گئی ہیں ان میں میڈیسن کٹس تقسیم کئے گئے ہیں ان کا کورونا ٹسٹ نگٹیو برآمد ہونے کے باوجود انہیں طبی امداد فراہم کرتے ہوئے انہیں 14 دنوں تک ہوم آئسولیشن میں رکھ کر ان کا علاج کیا جارہا ہے ۔ اگر کسی کی صحت نازک ہورہی ہے تو انہیں 108 ایمبولنس کے ذریعہ گورنمنٹ ہاسپٹل منتقل کرتے ہوئے ان کا علاج کیا جارہا ہے ۔ ہیلت ڈائرکٹر کے ردعمل اور زمینی حقائق میں کافی تضاد پایا جاتا ہے ۔ دو ہفتہ قبل تک لوگ کورونا ٹسٹ کرانے اور ٹیکہ لینے کے لیے سرکاری مراکز پر قطاروں میں کھڑے تھے جہاں لوگوں کا ٹسٹ کیا گیا نہ انہیں ٹیکے دئیے گئے ۔ ایک طرف سرکاری طور پر تصدیق کی جارہی ہے کہ 3.54 لاکھ لوگوں میں کورونا کی علامتیں ہیں جب ٹسٹوں کی تعداد 40 تا 50 ہزار تک گھٹا دی گئی تو 3.54 لاکھ علامتیں رکھنے والوں کا کہاں ٹسٹ کرایا گیا ایک ہفتہ سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد ٹسٹوں کی تعداد مزید گھٹا دی گئی اور دن میں 11 بجے تک ٹسٹوں کے مراکز کو بند کردیا جارہا ہے اور ساتھ ہی گذشتہ 5 دن سے ٹیکہ اندازی مہم کو بھی روک دیا گیا ہے ۔ گھر گھر سروے کرنے والی بیشتر ٹیموں کے پاس بخار چک کرنے کے لیے تھرما میٹرس کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے ۔ جن میں علامتیں پائی گئی ہیں انہیں صرف 5 دن کے میڈیسن دینے کی اطلاعات ملی ہیں ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع کے بیشتر مقامات پر سروے کرنے والی ٹیمیں آج تک بھی گھروں کو نہیں پہونچی ہے ۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے جو دلائل پیش کی جارہی ہے وہ بے بنیاد ہے اور انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ۔ کورونا کی دوسری لہر شہر حیدرآباد کے علاوہ دیہی علاقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ ہر 5 گھر میں ایک گھر کورونا سے متاثر ہے ۔ ایک گھر میں ایک اور اس سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر اور شرح اموات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ مگر سرکاری اعداد و شمار اور حکومت کے بلیٹن میں کم تعداد بتائی جارہی ہے ۔ حقائق کا جائزہ لینا ہو تو شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں کا دورہ کریں یہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے ۔ سب سے زیادہ مہاراشٹرا اور کرناٹک کے علاوہ آندھرا پردیش سے متصل سرحدی اضلاع بہت زیادہ متاثر ہیں ۔ جتنا بھی فیور سروے ہوا ہے اس کی رپورٹس تشویشناک ہے ۔ مگر حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دو ہفتوں سے کورونا کے کیس اور اموات کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ جب کورونا کے ٹسٹ کم کرو گے تو کم ہی کیس برآمد ہوں گے ۔۔