گھوڑی پر بارات نکالنا دلت دلہے کیلئے مہنگا پڑا

,

   

اعلیٰ ذات کے افراد کا بارات پرپتھراؤ ، کئی دلت خواتین زخمی
بناس کنٹھ (گجرات) ۔18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہمارے ملک میں دلتوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ہے۔ ملک کو انگریزوں سے آزادی ملے 72 برس ہوچکے ہیں لیکن اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی جانب سے غریب و بے بس دلتوں کو ذہنی طور پر غلام بنائے رکھنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، تعصب و جانبداری کا اندازہ گجرات کے ضلع بناس کنٹھ کے ایک گاؤں میں پیش آئے اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک دلت نوجوان کی بارات پر اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے صرف اس لئے پتھراؤ کیا کیونکہ اس نے گھوڑی پر اپنی بارات نکالنے کی ہمت کی۔ یہ دلت فوج میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ فوج کے جوان 22 سالہ آکاش کمار کوٹیا کے ساتھ پیش آیا۔ وہ دلت کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ پوسٹنگ سے قبل چھٹی لے کر گھر آیا تھا تاکہ شادی کرسکے۔ آکاش کے خاندان والوں کا الزام ہے کہ انہیں ٹھاکر کولی کمیونٹی کے لوگوں نے دھمکیاں دیں کہ اگر دولہا گھوڑی چڑھا تو وہ بارات کو گاؤں سے گذرنے نہیں دیں گے۔ دلہے کو پولیس کنٹرول روم ویان میں لے جانا پڑا۔ پتھراؤ میں کچھ دلت خواتین بھی زخمی ہوگئیں۔ دلہے کا بھائی بھی فوجی ہے اور وہ جموں و کشمیر سرحد پر اپنے ملک کی حفاظت پر کھڑا ہے۔ بہرحال اعلی ذات کے ہندوؤں کے پتھراؤ سے صرف دلت ہی زخمی نہیں ہوئے بلکہ ان کی عزت ِ نفس کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ کاش! ہمارے ملک میں دلتوں کو بھی انسان سمجھا جاتا۔ ان کے ساتھ مساویانہ سلوک ہوتا تو کتنا بہتر ہوتا۔