حیدرآباد /24 اپریل ( سیاست نیوز ) کورونا وائرس وباء ہنگامی صورتحال کے باوجود بھی فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آرہے ہیں ۔ کبھی سوشیل میڈیا پر یا کبھی شخصی حملے کرکے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ تازہ واقعہ میں گھٹکیسر میں گاؤ دہشت گردوں نے مسجد کے امام کو نشانہ بنایا اور پولیس کے سامنے ان کی پٹائی کی اور اس واقعہ کا ویڈیو بھی بناکر ٹِک ٹاک پر عام کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ حافظ عبدالعلیم جو سکندرآباد کی ایک مسجد میں امام ہیں اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ موٹر سائیکل پر گوشت گھر لے جارہے تھے ۔ گھٹکیسر میں اشرار کی ٹولی نے انہیں روک لیا اور گاڑی کی تلاشی لی اور اس میں بڑے جانور کا گوشت پائے جانے پر ان کی پٹائی کردی ۔ اتنا ہی نہیں اشرار نے پولیس کو طلب کرلیا اور پولیس کی موجودگی میں بھی گالی گلوچ کی اور زدوکوب کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ حافظ عبدالعلیم اور ان کے رشتہ دار کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ۔ پولیس نے ایک مقدمہ بھی درج کیا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گو رکھشکوں کو کس نے اجازت دی کہ وہ شہریوں کو نشانہ بنائے اور پولیس کی موجودگی میں زدوکوب کریں ۔ واضح رہے کہ چند دن قبل آر ایس ایس کارکن بھونگیر میں لاک ڈاؤن عمل آوری کے بہانے عوام کے دستاویزات کی تنقیح کرتے پائے گئے تھے ۔ لیکن حکومت نے انکار کردیا تھا کہ پولیس کی مدد کیلئے آر ایس ایس کارکنوں کو تعینات کیا گیا تھا ۔