ملک میں پٹرول، ڈیزل یا ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں‘ حکومت کا دعویٰ
نئی دہلی ۔14؍مارچ ( ایجنسیز )امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر کئے گئے یکطرفہ حملہ کے بعد تہران کی جوابی کارروائی کے سبب ہندوستان میں گیاس سلنڈر کیلئے کہرام مچ گیا ہے۔ حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل یا ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہیں دوسری طرف ملک کے کئی ریاستوں میں ایل پی جی سلنڈر کیلئے افراتفری مچی ہوئی ہے۔اترپردیش کے کانپور، فرخ آباد، اٹاوہ اور اناؤ سمیت کئی اضلاع میں ایل پی جی سلنڈرکی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے جہاں لوگ کئی کئی گھنٹے ایجنسی کے باہر لمبی لائن میں لگ کر طویل انتظار کے باوجود خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔ اس دوران فرخ آباد میں گیس لینے کیلئے گھنٹوں لائن میں کھڑے لوگوں کی بھیڑ کے درمیان ایک بزرگ کی موت ہو گئی جبکہ کانپور میں سلنڈر کیلئے لائن میں کھڑا ایک شخص بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ وہیں گیس سپلائی کرنے والی ایجنسیوں پر افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ لوگ صبح سے ہی لائنوں میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب میں گیس کے لیے مچی افراتفری میں ریاست کے شہر برنالہ کے رہائشی کی بھی موت ہوگئی۔ خبروں کے مطابق شہنا قصبہ میں گھریلو گیس سلنڈر بھروانے کیلئے لائن میں کھڑے ایک بزرگ شخص کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق شہنا قصبے کے رہائشی دیوراج متل کے 66 سالہ بیٹے بھوشن کمار متل صبح 5 بجے سے گیس سلنڈر لینے کیلئے لائن میں لگے ہوئے تھے۔ متوفی کے بھتیجے رابن متل نے بتایا کہ اس کے چچا بھوشن کمار سلنڈر بھرانے کے لیے صبح 5 بجے سے گیس ایجنسی کے سامنے لائن میں کھڑے تھے۔ زیادہ دیر تک لائن میں لگنے کی وجہ سے انہیں دل کا دورہ پڑا موقع پر ہی موت ہوگئی۔اسی طرح اترپردیش کے فرخ آباد میں گیس سلنڈر بک کرانے کیلئے گیس ایجنسی کے باہر لائن میں لگا ایک بزرگ شہری غش کھا کر زمین پر گرگیا۔ اس شخص کو ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ لواحقین نے بتایا کہ گیس ایجنسی میں لائن میں انتظار کرتے ہوئے انہیں دل کا دورہ پڑا تاہم ایجنسی کے منیجر نے ایسے کسی واقعہ کی تردید کی۔ خبروں کے مطابق گیس ایجنسیوں پر ایل پی جی سلنڈر س پہنچنے کے کچھ ہی وقت میں ختم ہو جاتے ہیں۔ لمبی لائنوں میں کھڑے صارفین کوخالی ہاتھ لوٹنا پڑرہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ایل پی جی کی قلت نہیں ہے تو جتنے لوگ لائن میں لگے ہیں، سبھی کو سلنڈر کیوں نہیں دستیاب کرائے جارہے ہیں۔