گیاس کی قلت سے آئی ٹی صنعت اور ہاسپٹلس بھی متاثر

   

آئندہ 48 گھنٹوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ
حیدرآباد۔11۔مارچ(سیاست نیوز) گیاس کی قلت نے آئی ٹی صنعت ‘ ہاسٹلس اور پی جی ہاسٹلس کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا اور آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں صورتحال مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ریستوراں اور ہوٹلوں کے کاروبار متاثر ہونے کے سبب دیگر متعلقہ کاروبار بھی تیزی سے متاثر ہونے لگے ہیں۔ آئی ٹی کاریڈور میں چلائے جانے والے کینٹین کے ذمہ داروں نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ وہ اپنے ’’مینو‘‘ میں تخفیف کرچکے ہیں اور جن اشیاء کی تیاری میں زیادہ گیاس استعمال ہوتی ہے ان اشیائے تغذیہ کی تیاری کو بند کیا جاچکا ہے۔ آئی ٹی کاریڈور ہاسٹل اسوسیشن کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ ان ہاسٹلس میں چائے اور کافی کی سربراہی بند کردی گئی ہے جبکہ ناشتہ میں سربراہ کی جانے والی اشیاء دوسہ ‘ پوری‘ اور ایک سے زائد سالن کی سربراہی کو بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔دوپہر اور رات کے کھانے میں بنیادی غذاء فراہم کی جائے گی علاوہ ازیں جو لوگ ہاسٹل میں اپنے طور پر پکوان کیا کرتے تھے اس پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔اسوسیشن کے نمائندوں نے بتایا کہ گیاس کی قلت نہ ہونے کی صورت میں ہاسٹلس میں معمول کے مطابق اعلیٰ معیاری غذائیں فراہم کی جا رہی تھیں لیکن اب جن حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ایسے میں محتاط رہنے کے علاوہ پکوان گیاس کے استعمال کو کم سے کم کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے اسی لئے یہ کوشش کی جار ہی ہے۔پکوان گیاس کی قلت اور ہوٹلوں میں لکڑی کے چولہوں پر پکوان کے احیاء کے ساتھ ہی پکوان کے لئے جلائی جانے والی لکڑی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور انگیٹھی پر جس میں کوئلہ جلاتے ہوئے اشیائے خورد ونوش کو گرم رکھا جاتاہے اس کوئلہ کی قیمتوں میں بھی راتوں رات اضافہ ریکارڈ کیاجانے لگا ہے۔ ہوٹلوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اگر گیاس کی سربراہی بحال نہیں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ہوٹلوں کو بند کرنا پڑسکتا ہے جو کہ لاکھوں افراد کو فوری اثر کے ساتھ بیروزگار کرنے کا سبب بننے کا خدشہ ہے۔ دواخانوں کے کینٹین‘ آئی ٹی کمپنیوں کے کینٹین ‘ کے علاوہ ان مقامات پر جہاں ملازمین کے لئے کھانا تیار کرتے ہوئے انہیں سہولت فراہم کی جاتی ہے وہاں بھی ’مینو‘ میں شامل اشیاء میں تخفیف کرتے ہوئے مشورہ دیا جا رہاہے کہ وہ ’مینو‘ میں موجود اشیاء پر ہی اکتفاء کریں اور دیگر اشیاء طلب کرنے سے گریز کریں ۔شہر حیدرآباد میں کمرشیل گیاس کی قلت کے بعد اب گھریلو استعمال کی گیاس کے حصول میں بھی دشواریوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے کیونکہ بیشتر گیاس بکنگ کے لئے فراہم کئے گئے نمبرات کام نہیں کر رہے ہیں اور کئی ایجنسیوں میں گیاس بکنگ کے حصول سے انکار کیا جانے لگا ہے کیونکہ ایجنسی کے ذمہ دار کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ بکنگ حاصل کرتے ہیں اور گیاس سربراہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان پر گیاس سیلنڈر کو بلیک کرنے کے بیجا الزامات کا سامنا رہے گا اور جس رفتار سے عوام گیاس سیلنڈر بک کر وا رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے سربراہی انتہائی دشوار نظرآنے لگی ہے۔3