ڈرائیورس کاروبار سے محروم ، سواریوں کو لیجانا مشکل ، قلت کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔26۔مارچ(سیاست نیوز) گیس کی قلت سے عاجز آٹو ڈرائیورس نے کرمن گھاٹ کے علاقہ میں راستہ روکو احتجاج منظم کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک ٹریفک میں خلل پیدا کردیا اور گیس کی قلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری طور پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ بتایاجاتاہے کہ کئی گھنٹوں تک گیس کے لئے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد بھی گیس کے حصول میں ناکامی پر آٹوڈرائیورس برہم ہوگئے اور اچانک احتجاج شروع کرتے ہوئے سڑک کے درمیان بیٹھ گئے ۔ آٹو ڈرائیورس نے الزام عائد کیا کہ گیس کی عدم سربراہی اور قلت کو چھپانے کے لئے عوام پر الزام عائد کیا جا رہاہے کہ وہ خوف کے عالم میں خریداری کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں قلت پیدا ہونے لگی ہے ۔ آٹوڈرائیورس نے بتایا کہ ان کے اس احتجاج کا مقصد حکومت کی آٹو ڈرائیورس کو ہونے والے مسائل پر متوجہ کروانا ہے کیونکہ 4تا6 گھنٹے گیس کے لئے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد وہ سواریوں کے لئے سڑکوں پر گھومنا پڑرہا ہے اور سواریاں نہ ملنے کے نتیجہ میں انہیں شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کرمن گھاٹ پر آٹو ڈرائیورس کے احتجاج کی اطلاع عام ہوتے ہی شہر حیدرآباد کے مختلف علاقو ں میں آٹو ڈرائیورس نے راستہ روک کر احتجاج شروع کردیا لیکن ان احتجاجیوں کو پولیس کی جانب سے ہٹانے میں کوئی عجلت کا مظاہرہ نہیں کیاگیا بلکہ احتجاج میں شامل آٹوڈرائیورس کی ویڈیو بنانے پر اکتفاء کرتے ہوئے انہیں سڑک سے ہٹانے اورگیس اسٹیشنوں سے بھی دور کرنے کے اقدامات کئے گئے ۔ آٹو ڈرائیورس نے اس بات کی شکایت کی کہ رات کے اوقات میں گیس اسٹیشنوں پر خدمات کو معطل کرتے ہوئے انہیں رات بھر اپنے آٹو کے ساتھ قطار میں کھڑے ہونے کے لئے مجبور کیا جا رہاہے اور دن میں کئی کئی گھنٹوں تک قطار میں کھڑے رہنے کے بعد محدود گیس فروخت کی جار ہی ہے اور ٹینک مکمل پر کرنے سے انکار کیا جا رہاہے جو کہ ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہورہا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ کئی گیس اسٹیشنوں پر محض 500 روپئے کی گیس دی جا رہی ہے اور 5گھنٹے قطار میں کھڑے ہونے کے بعد اگر اس مقدار میں گیس فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ سواریوں کو لیجانے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ آٹو ڈرائیورس کے احتجاج کے بعد کہا جار ہاہے کہ دونوں شہروں میں عوامی برہمی کے پھوٹ پڑنے کے خدشات کے پیش نظر کئی علاقوں میں گیس اسٹیشنوں اور پٹرول پمپ مالکین نے رضاکارانہ طور پر خدمات کو معطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کاروبار بند کر دیئے ہیں۔ پٹرول پمپ و گیس اسٹیشن ڈیلروں کا کہناہے کہ انہیں سربراہی حاصل نہ ہونے کے نتیجہ میں وہ فروخت سے قاصر ہیں اور صارفین سربراہی نہ ہونے پر ڈیلرس کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔3