اندورن 72گھنٹے معمول کی سربراہی بحال نہ ہونے پر پکوان بھی بند ہونے کا امکان
حیدرآباد۔10۔مارچ(سیاست نیوز) گیاس کی قلت نے ملک بھر کے کئی شہروں کے ساتھ شہر حیدرآباد میں کہرام مچا دیا ہے اور شہر حیدرآباد میں بیشتر ہوٹلوں کے مالکین نے ’’چائے ‘’ کی فروخت بند کردی ہے اور بتدریج اپنے ’’مینو‘‘ میں تخفیف کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ہوٹل اسوسیشن کے ذمہ داروں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ریستوراں صنعت کے تحفظ کے ذریعہ لاکھوں افراد کو بے روزگار ہونے سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ شہر کی مشہور ہوٹل شاہ غوث نے اپنی تمام 7 شاخوں پر ’’چائے ‘‘ کی فروخت کو بند کردیا ہے۔ مالک شاہ غوث ہوٹل جناب محمد ربانی نے بتایا کہ ایسی اشیاء کی تیاری سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کیلئے زیادہ گیاس درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تمام شاخوں میں یومیہ 250تا300 گیاس سیلنڈر درکار ہوتے ہیں لیکن گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 25تا30گیاس سیلنڈرس کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔ جناب محمد خالق افسرمنیجنگ پارٹنر گرانڈ باورچی نے بتایا کہ جن ہوٹلوں میں لکڑی کے چولہے یا بھٹی کے استعمال کی گنجائش نہیں ہے ان ہوٹلوں میں فوری طور پر یہ اقدام کیا گیا ہے۔ ملک پیٹ میں واقع ہوٹل پشاور میں بھی چائے کی فروخت کو بند کردیا گیا ہے۔ اندرون 72گھنٹے گیاس کی سربراہی معمول کے مطابق نہیںہوئی تو ایسی صورت میں بیشتر تمام ہوٹلوں میں پکوان کا سلسلہ بھی بند ہوجائے گا ۔ جناب محمد خالق افسر نے بتایا کہ تلنگانہ اسٹیٹ ہوٹلس اسوسیشن کے نمائندوں نے ریاستی وزیر سیول سپلائزکیپٹن این اتم کمار ریڈی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے فوری طور پر ہوٹلوں اور ریستوراں کے لئے گیاس کی سربراہی کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ہوٹلوں کو بند کرنے کی نوبت آتی ہے تو ایسی صورت میں لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ہوٹل انڈسٹری محض سیاحوں کو ہی نہیں بلکہ بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے علاوہ SWIGGYاور ZOMATOمیں خدمات انجام دینے والے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ بیشتر اڈلی اور دوسہ کے ریستوراں ابھی سے اپنے ’’مینو‘‘ میں تخفیف کا آغاز کرچکے ہیں ۔ دونوں شہروں میں مختلف ریستوراں مالکین کا کہناہے کہ تلنگانہ میں جس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس طرح کے حالات ملک کے دیگر شہروں کے نہیں ہیں اسی لئے حکومت تلنگانہ کو فوری طور پر اس مسئلہ کا حل نکالتے ہوئے ریستوراں کے کاروبار کو بند ہونے سے بچانے کے اقدامات کرنے چاہئے۔دونوں شہروں میں ریستوراں مالکین کی جانب سے اگر لکڑی کے چولہوں کے استعمال کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو ایسی صورت میں فضائی آلودگی میں زبردست اضافہ کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں چلائی جانے والی بعض ایجنسیوں کی جانب سے کمرشیل گیاس سیلنڈرس کی بلیک مارکنٹنگ بھی شروع ہوچکی ہے اور ان سیلنڈرس کو 2500تا2800 میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ مرکزی حکومت نے گیاس کی قلت سے نمٹنے کے لئے ملک بھر میں گیاس کی ذخیرہ اندوزی پر مکمل امتناع عائد کرتے ہوئے ESMA کے نفاذ کے احکام جاری کئے ہیں اور ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا اعلان کیاگیا ہے۔3