گیان واپی مسجدپر واراناسی کورٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کے قانون کی خلاف ورزی

   


حیدرآباد۔/13 ستمبر، ( سیاست نیوز) یونائٹیڈ مسلم فورم نے گیان واپی مسجد سے متعلق واراناسی ضلع عدالت کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ فورم کے ذمہ داران جناب محمد رحیم الدین انصاری، مولانا سید علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری، مولانا میر قطب الدین علی چشتی، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جناب ضیاء الدین نیر، جناب منیر الدین احمد مختار اور دوسروں نے اپنے مشترکہ بیان میں ضلعی عدالت کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات ایک بار پھر ملک میں رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد تنازعہ کی صورتحال پیدا کردیں گے۔ملک میں عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی پر سوال کھڑا ہورہا ہے۔ ایک منظم سازش کے ذریعہ ملک میں مندر اور مسجد تنازعات کو ہوا دی جارہی ہے۔ عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 کے علاوہ وقف ایکٹ 1995 اور سری کاشی وشواناتھ ٹمپل ایکٹ 1983 کے اطلاق کو ضلع جج نے قبول نہ کرتے ہوئے اس مقدمہ کو سماعت کیلئے قبول کرلیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدالت کے سامنے پارلیمنٹ کے قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ مسجد کے احاطہ میں موجود وضو کے حوض کے فوارے کو شیو لنگ قرار دے کر اس علاقہ کو عدالت نے بند کروادیا۔ فورم نے مسلمانوں سے صبر اور اتحاد کے ذریعہ قانونی جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔ر