گیان واپی مسجد ، کاشی متھرا عید گاہ تنازعہ ،آج سپریم کورٹ میں سماعت

,

   

جمعیتہ العلماء کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون عدالت میں پیش ہوں گے
نئی دہلی۔ گیان واپی مسجد، کاشی متھرا عیدگاہ تنازعہ حل کرانے کیلئے سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل پٹیشن پر کل سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے روبرو سماعت میں آئے گی۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کی گئی کاز لسٹ (سماعت کیلئے پیش ہونے والے مقدمات کی فہرست) کے مطابق اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڑے، جسٹس سبھاش ریڈی اور جسٹس اے ایس بوپنا کریں گے۔ گیانی واپی مسجد، کاشی متھرا عیدگاہ تنازعہ حل کرانے کیلئے ہندو پجاریوں کی تنظیم وشوا بھدر پجاری پروہت مہا سنگھ اور دیگر نے پٹیشن داخل کرکے عبادت کے مقام کے قانونی یعنی کہ پلیس آف کو بھی ہندو سادھوؤں کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن کے ساتھ سماعت کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔ عدالت اس پر بھی فیصلہ کرسکتی ہے۔ آیا جمعیتہ العلماء کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔ بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ کل کی ہونے والی سماعت پر جمعیتہ علماء ہند کی جانب سے راجیو دھون پیش ہوں گے۔ واضح رہے کہ یہ قانون 18 ستمبر1991ء کو منظور کیا گیا تھا جس کے مطابق1947ء میں ملک آزاد ہونے کے وقت مذہبی مقامات کی جو صورتحال تھی، اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ صرف بابری مسجد تنازعہ کو اس قانون سے باہر رکھا گیا تھا کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی سے مختلف عدالتوں میں زیرسماعت تھا۔ کل سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت سے قبل آج دوپہر بعد ایڈوکیٹ اعجاز مقبول اور ان کی معاون وکیل اکرتی چوبے نے ڈاکٹر راجیو دھون سے ان کے آفس میں کانفرنس بھی کی جس کے دوران سادھوؤں کی تنظیم کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور کل کی سماعت کیلئے لائحہ عمل بھی تیار کیا گیا۔